ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 142
۱۳۲ ل اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ اس میں موثر عورت کی غلامی ہے یا مرد کی ؟ جس کا مذہب یہ ہے کہ جس کے ہاتھے میں طلاق کا اختیار ہے اسکی غلامی کا اعتبار کیا جائے گا اس کے نزدیک اس میں مرد کی غلامی کا لحاظ ہو گا۔جس کے نزدیک اس مسئلہ میں اس فرد کی غلامی کا اعتبار کیا جائے گا جس پر طلاق واقع ہوتی ہے اس کے نزدیک اس میں عورت کی غلامی کا لحاظ ہو گا۔جیسا کہ عدت کے معاملہ میں عورت کی غلامی کا اعتبار کیا جاتا ہے۔کیونکہ اجتماع اس امر پر ہے کہ عدت میں مدت کی کمی کا اعتبار عورت کی غلامی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔پہلے گروہ نے اپنے مسلک کی تائید میں مندرجہ ذیل روایت بیان کی ہے۔جو کہ حضرت ابن عباس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان فرمائی ہے۔انَّهُ قَالَ الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ این رشد لکھتے ہیں کہ یہ روایت ایسی ہے جو صحاح میں منقول نہیں ہے اس لیے اس کی صحت میں شبہ ہے۔جس نے میاں بیوی میں سے کسی ایک کی غلامی کا اعتبار کیا ہے اس کے نزدیک مجرد غلامی اس کمی کا باعث ہے۔یہ غلامی خواہ خاوند کی ہو یا بیوی کی۔ترجمہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طلاق میں مردوں کا لحاظ کیا جائے گا اور عدت میں عورتوں کا وطیرانی بحواله محلی این حرم جلد ۱ ص ۲۳) تو اس مسئلہ میں چار صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں :- - 8 رام خاوند آزاد ہو ہیوی غلام ہو۔(۳) خاوند آزاد ہو بیوی آزاد ہو۔(س) خاوند غلام ہو بیوی آزاد ہو۔(۴) خاوند غلام ہو بیوی غلام ہو۔روایت مندرجہ بالا کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہکی صورت میں خاوند کو تین طلاقوں کا اختیار ہوگا۔اور بیوی دو حیض عدت گزار یکی دوسری صورت میں خاوند کو تین طلاقوں کا اختیار ہوگا۔اور بیوی تین حیض عزت گزاریگی تیسری صورت میں خاوند کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔اور بیوی تین حیض عدت گزارے گی۔جو بھی صورت میں خادند کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔اور بیوی دو حیض عدت گزارے گی