ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 143
۱۴۳ غلامی کے باعث تعداد طلاق میں کمی اس امر پر اکثر فقہاء کا اتفاق ہے کہ غلامی کے باعث تعداد طلاق میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ابو محمد بن حزم اور اہل ظاہر کے نزدیک اس بارہ میں غلام اور آزاد دونوں برابر ہیں۔جمہور نے غلام اور لونڈی کی طلاق کو حدود پر قیاس کیا ہے۔کیونکہ غلام کی حقد آزاد کی حد سے نصف ہے اس لئے طلاق کی تعداد بھی نصف ہونی چاہیئے۔چونکہ تین طلاقوں کا نصف ڈیڑھ طلاق ہے اور ڈیڑھے طلاق عملاً ممکن نہیں ہے اس لئے لونڈی کے لئے دو طلاقیں رکھی گئی ہیں۔اہل ظاہر کی دلیل یہ ہے کہ شرعی احکام میں آزاد اور غلام دونوں مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔سوائے اس کے کہ اسکے خلاف کوئی صریح نص موجود ہو اور نص صریح سے مراد قرآن مجید اور سنت نبوی کی کوئی دلیل ہے۔چونکہ اس مسئلہ میں قرآن مجید یا سنت بیوی میں کوئی ایسی نص نہیں ملتی۔اس لئے اس بارہ میں غلام کا حکم آزاد کے برابر ہونا ا اہل ظاہر کی دوسری دلیل اور جمہور کے قیاس کا جواب یہ ہے کہ لونڈی کی طلاق کو حدود پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔کیونکہ حدود میں غلام کے ساتھ نرمی کرنے کا فلسفہ یہ ہے کہ غلام میں آزاد کی نسبت بعض کمزوریاں ہیں مثلاً اسے اپنے کمائے ہوئے مال میں تصرف کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔اسی طرح وہ عام لین دین میں بھی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر خود مختار نہیں ہے۔چنانچہ غلام کے عام اختیارات میں کمی کے باعث شریعت نے اس کی سزا میں بھی آزاد کی نسبت کمی کر دی۔چونکہ غلام کے جرم اور آزاد کے جرم میں بھی فرق ہوتا ہے۔مثلاً غلام کا ارتکاب زناد اور آزاد کا ارتکاب زنا شعور کے لحاظ سے برابر نہیں ہے۔اس لئے شریعت نے غلام کے زنا کی سزا بھی آنا د کے زنار سے نصف کردی۔