ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 141
الرا جس نے طلاق کو اُن افعال کے مشابہ قرار دیا ہے جو اپنی صحت کے اعتبار سے شرعی پابندیوں کے محتاج ہیں۔اور ان میں انسان کا خود اپنے ذمہ کوئی پابندی عائد کرنے کا اعتبار نہیں کیا گیا۔اس کے نزدیک بیک وقت تین طلاقیں ایک طلاق کے برابر ہیں لیکن جن لوگوں کے نزدیک طلاق ان افعال کے مشابہ ہے جو انسان کے اپنے ذمہ لازم کرنے کی وجہ سے لازم ہو جاتے ہیں مثلاً نذر یا قسم۔ان کے نزدیک تین اکٹھی طلاقوں کا حکم تین متفرق طلاقوں کے برابر ہے۔ابن رشد فرماتے ہیں کہ اس حکم کے ماتحت یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ فقہا ر نے یہ سختی اس لئے کی ہے۔تاکہ رجوع کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہے لیکن اگر اسے درست سمجھا جائے تو اس سے تو شریعت کا رفق اور نرمی کا فلسفہ بالکل باطل ہو جاتا ہے۔حالانکہ طلاق میں رفق اور نرمی کا فلسفہ خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے۔غلامی میں طلاق لونڈی کی طلاق میں تعداد کی کمی کی وجہ کے متعلق اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک اس کمی کی وجہ خاوند کی غلامی ہے۔یعنی جب خاوند غلام ہو تو اس کی بیوی کے لئے قو طلاقیں بائن ہونگی۔بیوی خواہ آزاد ہو یا غلام۔یہ مذہب امام مالک اور امام شافعی کا ہے۔اور صحابہ میں سے حضرت عثمان بن عفان حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن عباس کا ہے۔بعض کے نزدیک اس کمی کی وجہ بیوی کی غلامی ہے۔پس اگر بیوی کنیز ہو تو خاوند خواہ آزاد ہو یا غلام اسکی طلاق بائن دو طلاقوں سے ہوگی۔صحابہ میں سے اس قول کو ابن مسعودؓ نے اختیار کیا ہے اور فقہار میں سے امام ابوحنیفہ نے۔ان اقوال کے علاوہ ایک قول یہ بھی ہے کہ میاں بیوی میں سے اگر ایک بھی غلام ہو۔تو دو طلاقیں پائی ہونگی۔یہ عثمان بقی کا قول ہے اور حضرت ابن عمر کی ایک روایت بھی اسکے موافق