ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 108
I۔A تیسرا باب فسخ نکاح کے موجبات چار ہیں (۱) عیب (۲) حق مہر یا نان و نفقہ دینے کی نا اہلیت - (۳) خاوند کا مفقود الخبر ہونا۔( من کوجہ لونڈی کی آزادی۔اب ان موجبات کے متعلق الگ الگ بحث کی جاتی ہے۔عیب فقہاء نے کسی عیب کی وجہ سے شیخ نکاح کے بارہ میں دو باتوں میں اختلاف کیا (1) کیا کسی عیب کی وجہ سے فسخ نکاح جائز ہے یا نہیں ہے (۲) کن عیوب میں فسح جائز ہے اور کن میں ناجائز؟ صورت اول کے متعلق امام مالک شافعی اور ان کے اصحاب کا مذہب یہ ہے کر کسی بھی عیب کی وجہ سے میاں بیوی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے۔اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ کسی عیب کی وجہ سے بھی زوجین کو فسخ نکاح کا اختیار نہیں ہے اور یہی مذہب عمر بن عبدالعزیز کا ہے۔وجہ اختلاف اس بارہ میں اختلاف کی دو وجوہ بیان کی گئی ہیں۔(1) کیا صحابی کا قول حجت ہے یا نہیں ؟ (۲) کیا نکاح بیع کے مشابہ ہے یا نہیں؟ صحابی کا قول جو اس بارہ میں بیان ہوا ہے وہ حضرت عمرف کا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔أيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ وَ بِهَا جُنُونَ اَوْ جُدَاهُ أَوْ بَرْضٌ وفي بعض الرواياتِ اَوْ قَرْنَ فَلَهَا صَلَاقُهَا كَا مِلا وذلِكَ