ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 59
۵۹ سوم۔اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس شخص کے ساتھ یہ شرط کی گئی ہو کہ وہ مقررہ حق مہر کے علاوہ لڑکی کے والد کو تحفہ بھی دے تو اس کے متعلق تین اقوال منقول ہیں۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک شرط کا پورا کرنا ضروری ہے۔اور حق مہر درست ہے۔امام شافعی کے نزدیک یہ مہر فاسد ہے اور اسے ہر مثل ادا کرنا ہوگا۔امام مالک کے نزدیک اگر یہ شرط نکاح کے وقت کی گئی ہے تو یہ تحفہ لڑکی کو دیا جائے گا اور اگر نکاح کے بعد شرط کی گئی۔تو اس کے باپ کو دیا جائے گا۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک یہ صورت اشخص کے مشابہ ہے جو بیع کے لئے وکیل مقرر ہو اور وہ وکیل اس چیز کو فروخت کرنے کے قیت مشتری سے کہے کہ میں تمہارے پاس یہ چیز اس شرط پر فروخت کرتا ہوں کہ تم اسکی قیمت کے علاوہ مجھے کچھ تحفہ بھی دو۔چونکہ اس صورت میں یہ بیج جائز نہیں ہوتی لہذا یہ نکاح بھی جائز نہیں ہے۔بعض نے اس صورت کو اس قسم کی سیج کے قائمقام قرار نہیں دیا اس لئے ان کے نزدیک یہ نکاح جائز ہے۔امام مالک نے جو اپنے مذہب میں نکاح سے قبل اور نکاح کے بعد شرط کرنے کی تفریق کی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح کے وقت شرط کرنے سے باپ پر یہ الزام عاید ہوتا ہے کہ اس نے اپنے لئے شرط مقرر کر کے لڑکی کو ہر مشکل سے محروم کر دیا۔لیکن نکاح کے بعد شرط کرنے سے یہ الزام عائد نہیں ہوتا۔امام مالک کے مذہب کے مطابق عمر بن عبد العزیزہ ثوری اور ابو عبید کا بھی یہی مذہب ہے۔اسی طرح نسائی اور ابو داؤد نے ایک روایت نقل کی ہے اور وہ یہ ہے۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا اِمْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى حِبَاءَ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاح فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ نِعْمَةِ النِّكَاحَ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ