ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 60 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 60

4۔مَا أُكْرِمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ ابْنَتَهُ وَ اخْتُهُ یہ روایت مختلف فیہ ہے۔اور اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے لیکن یہ امام مالک کے مذہب میں نص ہے۔ابو عمر بن عبدالبر کہتے ہیں کہ جب اس کو ثقات نے روایت کیا ہے تو اس پر عمل کرنا بھی واجب ہے۔چہارم : اگر خاوند نے کوئی چیز حق مہر میں ادا کرنے کے لئے بیوی کو دی لیکن بعد میں یہ معلوم ہوا کہ یہ کسی اور شخص کی ملکیت ہے یا اس میں کوئی عیب نکل آیا۔تو اس بارہ میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ نکاح ثابت ہے لیکن اختلاف اس بارہ میں ہے کہ جہر اس چیز کی قیمت میں ادا کرنا ہوگا یا اسکی مثل کوئی اور چیز ادا کرنی ہوگی۔امام شافعی ﷺ کے ایک قول کے مطابق اس چیز کی قیمت واجب ہوگی اور دوسرے قول کے مطابق مہر مثل واجب ہوگا۔ایک اور مذہب یہ ہے کہ اس چیز کی مثل کوئی اور چیز ادا کرنی ہوگی۔ابو الحسن لحمی کہتے ہیں کہ اس صورت میں زیادہ مناسب یہ ہے کہ مہر مثل اور اس چیز کی قیمت میں سے جو مقدار کم ہو وہ ادا کی جائے۔سخنوں اس بارہ میں سب سے منفرد ہیں ان کے نزدیک نکاح فاسد ہوگا۔اس اختلاف کا سبب بھی وہی ہے جو پہلے بیان ہو چکا کہ میں نے نکاح کو بیچ سے قائمقام قرار دیا اس کے نزدیک یہ نکاح فاسد ہے کیونکہ جس طرح قیمت کے معین ه ترجمه: عمرو بن شعیب نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی عورت رحتی صبر کے علاوہ کسی تحفہ کی شرط پر نکاح کرے اور یہ شرط نکاح سے قبل کی گئی ہو تو وہ تحفہ اس عورت کے لئے ہے۔اور اگر یہ شرط نکاح کے بعد کی گئی ہو تو وہ تحفہ اس کا ہے جس کو دیا گیا۔اور جس تحفہ کے پیش کرنے سے کسی شخص کی عزت افزائی مقصود ہوتی ہے تو اس کی زیادہ حقدار اس شخص کی بیٹی یا بہن ہے۔(اس روایت کو ترندی کے علاوہ باقی صحاح نے بیان کیا ہے۔بحوالہ منتقی جلد ۵۴۹۵۲) ے معلوم ہوتا ہے کہ امام شافعی نے واقعات اور حالات کے مطابق مختلف فتوے دیئے ہیں۔بہتر بھی یہی ہے کہ ایسی صورت میں حالات اور میاں بیوی کی رضا مندی کے مطابق عمار را مد کیا جائے۔