گلشن احمد

by Other Authors

Page 46 of 84

گلشن احمد — Page 46

90 89 پیمانے پر خطابات اور پریس کانفرنسز سے پیغام حق پہنچایا۔سفر یورپ مغربی افریقہ سفر انگلستان سفر یورپ امریکہ و کینیڈا دوره مغرب 6 جولائی 1967 تا 24 اگست 1967 4 اپریل 1970 تا 8 جون 1970 13 جولائی 1973 تا 26 ستمبر 1973 15 اگست 1975 تا 29 اکتوبر 1975 20 جولائی 1976 تا 20 اکتوبر 1676 26 جون 1980 تا 26 اکتوبر 1980 حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے مبارک دور میں حضرت مسیح موعود کی متعدد پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔اس مختصر مضمون میں صرف ان کی جھلک دکھائی جا سکتی ہے۔مثلاً ایک پیشگوئی ہے۔” میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ (برکات الدعاص30) گیمبیا کے پریذیڈنٹ الحاج ایم اے سنگھاٹے نے احمدیت قبول فرما کر حضرت اقدس کے مقدس کپڑوں سے برکت پائی۔1970ء کے دورہ افریقہ کے موقع پر کئی سربراہان مملکت نے حضور سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔حضرت اقدس کی ایک پیشگوئی۔" تزلزل در ایوان کسری فتاد ( تذکرہ ص (503) ترجمہ :- شاہ ایران کے محل میں تزلزل پڑ گیا۔اس طرح پوری ہوئی کہ 16 جنوری 1979ء کو شاہ ایران کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور ایران کے مذہبی رہنما روح اللہ خمینی برسراقتدار آئے۔حضرت اقدس کی ایک پیشگوئی ہے ” میرا لوٹا ہوا مال تجھے ملے گا ( تذکرہ ص 158) اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی ایک اس رنگ میں پوری فرمائی کہ سرزمین سپین پر ساڑھے سات سو سال کے بعد پھر سے غلامان محمد کی آواز اذان کی صورت میں گونجی 19اکتوبر 1980ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے پید رو آباد اسپین میں اللہ کے گھر کی بنیاد رکھی۔آپ کو طالب علموں سے خاص طور پر بہت پیار تھا ان کی روحانی و جسمانی صحت کا خیال بھی رکھتے۔ذہانت بڑھانے کے لئے سویا بین متعارف کروائی۔ادا ئیگی حقوق طلباء کے لئے ایک فنڈ قائم فرمایا تعلیمی وظائف میں صرف لیاقت کی شرط رکھی۔احمدی ، غیر احمدی کا فرق نہ رکھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی حیات میں چھ تقاریب میں 32 طلباء و طالبات کو گولڈ میڈل دیے گئے۔جلسہ سالانہ 1965ء کے موقع پر آپ نے فضل عمر فاؤنڈیشن کے نام سے ادارے کا قیام فرمایا۔یہ ادارہ حضرت مصلح موعود کی یاد میں اُن کے محبوب مقاصد کو سامنے رکھ کر قائم فرمایا جس کا ابتدائی سرمایہ 25 لاکھ روپے رکھا گیا مگر جماعت نے والہانہ مالی قربانی پیش کر کے کہیں زیادہ ادائیگی کی۔اس فاؤنڈیشن کے تحت خلافت لائبریری اور سرائے فضل عمر کے نام سے وسیع گیسٹ ہاؤس تعمیر کیا گیا۔جلسہ سالانہ پر تقاریر کے انگریزی اور انڈونیشین زبانوں میں رواں ترجمے کا انتظام کیا گیا۔قرآن کریم کے فرانسیسی ترجمے کی اشاعت میں مدد کی گئی۔اور دیگر بے حد اہم کام ہوئے۔آپ کے مبارک دور میں پاکستان اور بیرون پاکستان کل 425 بیوت الحمد تعمیر ہوئیں۔جماعت احمدیہ کے قیام پر سو سال پورے ہونے پر اظہار تشکر کے لئے صد سالہ جوبلی کا عظیم الشان منصوبہ پیش فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ اسلام پر عالگیر حملوں کا جواب دینے کے لئے ” آدم کی پیدائش کے بعد اتنا بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔آدم سے لے کر آج تک اتنی زبر دست جنگ (روحانی جنگ مادی ہتھیاروں سے نہیں) شیطانی قوتوں کے خلاف نہیں لڑی گئی جتنی اس زمانے میں جو محمد مصطفے صلی اللہ