گلشن احمد

by Other Authors

Page 45 of 84

گلشن احمد — Page 45

88 87 کوئی شخص میرے دل کو چیر کر دیکھ سکتا تو اُسے معلوم ہو جاتا کہ اس میں خدا اور محمد مصطفے ﷺ کی محبت کے سوا اور کچھ نہیں۔“ آپ حافظ قرآن تھے۔قرآنی علوم کو پھیلانے کا از حد شوق تھا۔آپ نے تحریک کی کہ ہزاروں رضا کاراپنے وقت کا ایک حصہ قرآن پاک سکھانے میں صرف کریں۔ناظرہ پڑھائیں اور ترجمہ پڑھائیں۔آپ کی خواہش تھی کہ جماعت کو کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے، نہ بڑا نہ چھوٹا ، نہ مرد ، نہ عورت ، نہ جوان نہ بچہ کہ جسے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا نہ آتا ہو۔آپ نے سورۃ البقرہ کی ابتدائی سترہ آیات حفظ کرنے کی تحریک فرمائی۔جس کے نتیجے میں چھوٹے ، بڑے ابتدائی ستره آیات حفظ کرتے ہیں اور ان کا ترجمہ سیکھتے ہیں۔1969ء میں حضرت مسیح موعود کی تفسیر اور ارشادات بابت تفسیر القرآن مختلف کتب سے یکجا کر کے شائع کروائے۔قرآن کریم کو دُنیا کی ہر قوم تک اُس کی زبان میں پہنچانے کے لئے آپ نے یورپ ، امریکہ اور افریقہ کے درجنوں ممالک کے مشہور ہوٹلوں میں قرآن پاک رکھوانے کا اہتمام کروایا۔قرآن کریم حفظ کرنے کی تحریک فرمائی اور اس کے لئے خاص طور پر خدام کو ارشاد فرمایا کہ وہ پہلے ایک پارہ حفظ کریں۔جب حفظ ہو جائے تو دوسرا کریں۔اس طرح آپ کا مقصد زیادہ سے زیادہ حفاظ تیار کرنا تھا۔یہ تحریک خدام تک محدود نہ رہی بلکہ دیگر تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔آپ کے عہد میں بیت اقصی ، خلافت لائبریری ، قصر خلافت ،سرائے محبت ، سرائے فضل عمر ، احمد یہ دارالکتب فضل عمر فاؤنڈیشن اور جدید پریس کی شاندار عمارات تعمیر ہوئیں۔28 اکتوبر 1979ء کو غلبہ دین حق کی صدی کے لئے دس سالہ لائحہ عمل تجویز فرمایا۔1 - ہر بچہ قاعدہ یسرنا القرآن جانتا ہو۔2- قرآن مجید ناظرہ جاننے والے ترجمہ و تفسیر سیکھیں۔3 - ہر بچہ کم از کم میٹرک ہو۔4- ہر احمدی دینِ حق کی حسین تعلیم پر قائم ہو۔چنانچہ آپ کے دور خلافت میں قرآنی علوم کے پھیلانے کی جو کوشش کی گئی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔خدمت انسانیت کے لئے آپ کا نعرہ زبانِ زدِ عام ہے۔" محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔“ بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے آپ نے بہت سے عظیم الشان کام کئے۔1970ء میں گیمبیا میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں یہ تحریک پیدا فرمائی کہ ان ملکوں کے غریب اور مظلوم انسانوں کی خدمت کے لئے ابتدائی طور پر ایک لاکھ پونڈ خرچ کر کے رفاہی ادارے کھولے جائیں۔چنانچہ بیت الفضل لندن میں آپ نے نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کا اعلان فرمایا۔اس کا مقصد افریقہ میں ہسپتال اور تعلیمی ادارے قائم کر کے وہاں کے عوام کی خدمت کرنا تھا۔آپ نے واضح طور پر اعلان فرمایا کہ ان ملکوں میں کمایا ہوا روپیہ باہر نہیں جائے گا بلکہ وہیں بہبود کے کاموں میں خرچ ہو گا۔آپ نے اس کے لئے رقت سے دُعائیں کیں اور کروائیں۔اللہ تعالیٰ کے احسان سے اس میں غیر معمولی ترقی نصیب ہوئی۔۔خلافت ثالثہ کے اختتام پر 21 ہسپتال 35 سیکنڈری سکول 100 پرائمری و مڈل سکول کا م کر رہے تھے۔شفا اور تعلیم کے معیار کا شہرہ دور ونزد یک پھیل چکا تھا احیائے دین کے لئے آپ نے بیرونی ممالک کے چھ دورے کئے جن میں وسیع