گلشن احمد

by Other Authors

Page 47 of 84

گلشن احمد — Page 47

92 91 علیہ وسلم کا زمانہ ہے لڑی جانے والی ہے۔“ خطبہ جمعہ 25 فروری 1974) اس منصوبہ کا سب سے بڑا مقصد بنی نوع انسان کو خدا سے روشناس کرانا تھا آپ کی خواہش تھی کہ کل انسانیت ملتِ واحدہ بن جائے۔جدید ترین ذرائع ابلاغ سے فائدہ اُٹھایا جائے۔روحانی انقلاب کے لئے روحانی پروگرام دیا جو روزے ، نوافل اور دُعاؤں پر مشتمل تھا۔اس منصوبے کے تحت نئے مراکز اور بيوت الحمد تعمیر کئے گئے۔پید رو آباد اسپین میں بیت البشارت کا سنگ بنیاد 9اکتوبر 1980ء کو رکھا۔یہ سکیم فیضان کا جاری سلسلہ ہے۔مسجد مکمل ہو چکی ہے جو بلی فنڈ سے قرآنِ کریم کے تراجم اور دیگر لٹریچر سو سے زائد زبانوں میں شائع ہو چکا 3 ستمبر 1981 ء کو آپ کی بیگم حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ وفات پا گئیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے دو صاحبزادیاں محترمہ امۃ الشکور صاحبہ اور محترمہ امتہ الحلیم صاحبہ اور تین صاحبزادے محترم مرزا انس احمد محترم فرید احمد اور محترم مرزا لقمان احمد عطا فرمائے۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم کی وفات کے بعد آپ نے خالص دینی اغراض کے لئے گیارہ اپریل 1982ء کو حضرت سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ بنت مکرم عبد المجید خاں صاحب سے دوسری شادی کی۔موصوفہ علمی، تربیتی اور طبی میدان میں خدمت دینیہ میں مصروف ہیں۔8/9 جون 1982 کی درمیانی شب آپ مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔خدا رحمت کنند این عاشقان نیک طینت را حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے بڑے فرزند اور جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد اور حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ کے بیٹے مرزا طاہر احمد 18 دسمبر 1928 ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ کے نانا حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے 1901ء میں حضرت اقدس مسیح موعود کی بیعت کی تھی۔آپ نہایت عابد و زاہد مخلص انسان تھے۔حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ بہت سی خوبیوں کی مالک خاتون تھیں۔اُن کا دل خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوقات کی محبت سے لبریز تھا۔غریبوں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھ کر ان کی عزت نفس کی حفاظت کرتے ہوئے مشفقانہ ہمدردانہ سلوک کرتیں۔آپ کے ذاتی تعلقات بہت وسیع تھے۔آپ نے لجنہ اماء اللہ کی طویل عرصہ خدمت کی۔1933ء میں لجنہ کی جنرل سیکرٹری مقرر ہوئیں 1942 ء سے وفات تک بطور صدر خدمات سر انجام دیں۔حضرت خلیفہ ایج