گلشن احمد — Page 44
86 85 اتنے قیمتی تھے کہ اُس وقت اُن کی قیمت پانچ پانچ ہزار روپے تھی۔جون 1948 سے جون 1950 ء تک فرقان بٹالین میں اہم ملکی خدمات بجا لاتے رہے یہ بٹالین احمدی نوجوان پر مشتمل تھی جو محاذ کشمیر پر شجاعت و دلیری کے جو ہر دکھاتی رہی۔1953ء میں پاکستان بھر میں فسادات کی آگ بھڑکا دی گئی تھی آپ کو جھوٹے الزام میں قید کر لیا گیا۔یہ آزمائش بھی خندہ پیشانی اور صبر وسکون سے گزاری۔آپ 28 مئی 1953 ء کو رہا ہوئے 1954ء میں مجلس انصار اللہ کے صدر منتخب ہوئے اور مئی 1955 میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ پاکستان کا صدر مقرر فرما دیا 1959 سے نومبر 1965 تک افسر جلسہ سالانہ کی خدمات بھی ادا فرمائیں۔8 نومبر 1965ء آپ کو اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا تیسرا خلیفہ بنا دیا۔اللہ پاک کی خاص حکمت سے آپ حضرت عثمان سے گہری مشابہت اور مماثلت رکھتے تھے۔حضرت عثمان " بھی 8 نومبر کو مسند آرائے خلافت ہوئے تھے۔دونوں کو اللہ تعالیٰ اور اُس کی مخلوق سے بے حد پیار تھا انتہائی شفیق اور حلیم تھے۔17 ستمبر 1965 ء کو آپ نے تحریک فرمائی کہ خیال رکھا جائے کہ کوئی احمدی رات کو بھوکا نہ سوئے۔آپ فرماتے ہیں۔ہیں۔” ہمارا پہلا پیارا پنے ربّ کریم سے ہے اور پھر اس سے ہے جس نے ہمارے رب کی ہمیں راہیں دکھائیں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔غرض ہمارے لئے خدا، مصطفے ہی کافی ہیں کسی اور کی ہمیں ضرورت نہیں۔“ ( الفضل 26 اپریل 1976ء) آپ کی دلی دعاؤں سے آپ کی ذات کا حسن نمایاں ہوتا ہے آپ فرماتے ”اے ہمارے اللہ ! ہمارے پیارے رب تو ایسا کر کہ تیرے یہ کمزور اور یہ بے مایہ بندے تیرے لئے بنی نوع انسان کے دل جیت لیں اور تیرے قدموں میں انہیں لا ڈالیں ایسا کر کہ تا ابد دُنیا کے ہر گھروں میں بسنے والے ہر ول سے لا إله إلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کی صدا اور دُنیا کی ہر زبان سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتا رہے“ ( از جلسہ سالانہ کی دُعائیں ص 18) آپ نے جماعت کو سوز و درد سے لا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا ورد بکثرت کرنے کی تاکید فرمائی۔آپ کی اقتدا میں آپ کی لے میں جماعت کا یہ ورد لہر در لہر کائنات میں پھیلا۔آپ کو خدا تعالیٰ کی ذات پر اتنا تو کل تھا جتنی بڑی مشکل ہوتی آپ اُسی قدر خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں فضلوں اور برکتوں کے ساتھ سارے کام خود سنوار دیتا۔1974ء میں جب جماعت کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا آپ لٹے پٹے گھائل لوگوں کو گلے سے لگاتے، حوصلہ اور دُعائیں دیتے۔جماعت مضبوط چٹان کی طرح اپنے خلوص میں آگے بڑھتی رہی۔قومی اسمبلی میں سوالات کے ایمان افروز جوابات دیے۔اور اس طرح بہت بڑے جہاد کا موقع ملا۔اس دلیرانہ جہاد میں آپ کو خدا تعالیٰ کی معجزانہ تائید حاصل رہی۔کارروائی کے آخری دن آپ نے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر فرمایا :- ” میں نے اس ایوان میں پہلے دو روز جماعت کا محضر نامہ پڑھا۔بعد ازاں گیارہ دن تک مجھ پر انتہائی سخت قسم کے سوالات پوچھے گئے۔یہ ایام شدید گرمی کے بھی تھے اور میرے لئے انتہائی مصروفیت کے بھی مجھے معلوم نہیں کہ دن کب چڑھا ہے اور رات کب آئی ہے ان تیرہ دنوں میں اگر