گلشن احمد

by Other Authors

Page 43 of 84

گلشن احمد — Page 43

84 83 (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 ص 219,218) حضرت مصلح موعود ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) فرماتے ہیں۔” مجھے بھی خدا نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا۔(الفضل 13 نومبر 1965ء) آپ بہت چھوٹے تھے جب حضرت مصلح موعود نے آپ کو اپنی مبارک ماں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی گود میں ڈال کر درخواست کی کہ آپ ہی اس بچے کی تربیت فرمائیں۔اس طرح اللہ پاک نے آپ کی تربیت کا انتظام اُس ہستی کے سپرد کر دیا جس نے حضرت مسیح موعود کی صحبت میں اپنی مبشر اولاد کی تربیت فرمائی تھی۔تیرہ سال کی عمر میں آپ نے قرآن مجید حفظ کر لیا۔آپ کی طبیعت میں گہری سعادت مندی اور فطری نیکی تھی۔خدمت خلق کا جذبہ بھی بہت پایا جاتا تھا۔جلسہ سالانہ کے ایام میں دن رات ڈیوٹی دیتے۔1927ء میں حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر راتوں رات جلسہ گاہ کو وسیع کرنے کے لئے ان تھک کام کیا۔اس کے انعام میں میڈل حاصل کیا۔جولائی 1929ء میں آپ نے جامعہ احمد یہ قادیان سے پنجاب یونیورسٹی کا امتحان 'مولوی فاضل، پاس کیا۔1934ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کی۔زمانہ طالب علمی میں ایک موقع پر آپ نے بے حد دیانتداری کا مظاہرہ کیا جب کسی نے امتحان کے دنوں میں آؤٹ ہونے والا پرچہ بڑے فخر سے آپ کو پیش کیا تو آپ نے فرمایا۔میں صرف اُس محنت کا صلہ لینے کا حق دار ہوں جو میں 66 نے کی۔جو نمبر مفت ملتے ہوں وہ میں کبھی نہیں لوں گا۔“ 4 اگست 1934ء میں آپ کی شادی سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ بنت حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ ہوئی۔ستمبر 1934ء میں آپ کو انگلستان حصول تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا :- میں تم کو انگلستان بھجوا رہا ہوں اس غرض سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو فتح مکہ سے پہلے مکہ بھجوایا کرتے تھے۔میں اس لئے بھجوا رہا ہوں کہ تم مغرب کے نقطہ نظر کو سمجھو۔تم اس زہر کی گہرائی معلوم کرو جو انسان کے روحانی جسم کو ہلاک کر رہا ہے۔تم ان ہتھیاروں سے واقف اور آگاہ ہو جاؤ جن کو دقبال اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔غرض تمہارا کام یہ ہے کہ تم اسلام کی خدمت کے لئے اور دجالی فتنہ کی پامالی کے لئے سامان جمع کرو۔“ 1938ء میں آپ آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری لے کر واپس تشریف لائے۔جامعہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام کالج میں تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔مئی 1944 سے نومبر 1965 تک تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل رہے۔1947ء میں تقسیم برصغیر کے وقت آپ نے حفاظت مرکز اور مہاجرین کے انخلاء کا کام بڑے مشکل وقتوں میں حکمت عملی اور بہادری سے کیا۔آپ 15 نومبر 1947 ء تک قادیان میں رہے۔ایک کیمپ میں مسلمان عورتوں کو پناہ دی گئی جن کے پاس کپڑے نہ ہونے کے باعث ستر پوشی بھی ممکن نہ تھی۔آپ نے اپنی بیگم حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کے جہیز کے ٹرنک کھولے اور سارے کپڑے مستحق خواتین میں تقسیم کر دیے۔ان میں سے بعض جوڑے