گلشن احمد — Page 33
64 63 وو نہیں کیا اگر یہ شخص مجھے کچھ بھی نہ دیتا تو میری عادت ہی مانگنے کی نہیں پھر ہو سکتا تھا کہ وہ صرف ایک روپیہ ہی دیتا یا اشرفی ہی دیتا مگر میرے مولیٰ نے اُسے مجبور کیا کہ میرے نورالدین کو سولہ روپے کی ضرورت ہے اس لئے اشرفی کے ساتھ روپیہ بھی رکھو۔“ ایک دفعہ ایک ضرورت مند نے بیٹی کی شادی کے لئے امداد چاہی آپ نے پوچھا۔” کتنے روپے میں گزارا ہو جائے گا۔اُس نے بتایا اڑھائی سو روپے میں فرمایا۔” بیٹھ جاؤ۔آپ مریضوں کی نبض دیکھتے رہے۔ظہر کے وقت اُٹھے فرشی نشست کا کپڑا اُٹھا کر گنتی کی پورے اڑھائی سو روپے تھے۔اس ضرورت مند کو دے کر نماز کے لئے چل دیے اور ایسا کئی دفعہ ہوتا کبھی ایک ،کبھی دو کبھی تین ضرورتمند آ جاتے آپ سب کو بٹھا لیتے اللہ تعالیٰ کوئی صورت بنا دیتا کہیں سے منی آرڈر آ جاتا یا کوئی نذرانہ وغیرہ بھیج دیتا۔آپ نمبر وار ضرورت مندوں کو عنایت کرتے جاتے کہ لو تمہاری قسمت کا آ گیا۔آپ کی سیرت کا دوسرا نمایاں پہلو عشقِ قرآن تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے۔” مجھے قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگتی۔ہزاروں کتابیں پڑھی ہیں ان سب میں مجھے خدا ہی کی کتاب پسند آئی۔“ ( بدر 18 جنوری 1912ء) میں نے دوسری کتابیں پڑھی ہیں اور بہت پڑھی ہیں مگر اس لئے نہیں کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں وہ مجھے پیاری ہیں بلکہ محض اس نیت اور غرض سے کہ قرآن کریم کے فہم میں معاون ہوں۔“ ( بدر 8 جنوری 1912ء) قرآن میری غذا میری تسلی اور اطمینان کا ذریعہ ہے اور میں جب تک اس کو کئی بار مختلف رنگ میں پڑھ نہیں لیتا مجھے آرام اور چین نہیں آتا۔بچپن سے میری طبیعت خدا نے قرآن شریف پر تدبر کرنے والی بنائی ہے اور میں ہمیشہ دیر 66 دیر تک قرآن شریف کے عجائبات اور بلند پروازیوں پر غور کرتا ہوں۔“ ( ترجمۃ القرآن ص 46 از حضرت یعقوب علی عرفانی) ” میرا تو اعتقاد ہے کہ اس کتاب کا ایک رکوع انسان کو بادشاہ سے بڑھ کو خوش قسمت بنا دیتا ہے۔“ ایک دفعہ فرمایا کہ۔” خدا تعالیٰ مجھے بہشت اور حشر میں نعمتیں دے تو میں سب سے پہلے قرآن شریف مانگوں گا تا حشر کے میدان میں بھی اور بہشت میں بھی قرآن شریف پڑھوں ، پڑھاؤں اور سناؤں۔“ تذكرة المهدی حصہ اوّل ص 246 آپ قادیان کی بیت الاقصیٰ میں درس دیا کرتے تھے اس درس میں کبھی کبھی خود حضرت مسیح موعود بھی تشریف لے آتے۔درس کا رنگ عالمانہ اور ناصحانہ ہوتا انداز پیارا اور دل میں اُتر جانے والا ہوتا جو ایک دفعہ سُن لیتا قرآن پاک کا گرویدہ ہو جاتا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد آپ کے درس کی کیفیت کا ذکر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔” جماعت احمدیہ کے علم النفسیر کا ایک کثیر حصہ بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ ہی کی تشریحات اور انکشافات پر مبنی ہے۔“ ( الفضل 6 دسمبر 1950ء) آپ کو علوم حدیث پر بھی بہت عبور تھا۔فرماتے ہیں۔میں نے بہت روپیہ محنت ، وقت خرچ کر کے احادیث کو پڑھا ہے اور اس قدر پڑھا ہے کہ اگر بیان کروں تو تم کو حیرت ہو ابھی میرے سامنے کوئی کلمہ کو حدیث کا ، ایک قرآن کا اور ایک کسی اور شخص کا پیش کرو میں بتا دوں گا کہ یہ قرآن