گلشن احمد

by Other Authors

Page 34 of 84

گلشن احمد — Page 34

66 65 کا ہے یہ حدیث کا اور یہ کسی معمولی انسان کا۔( بدر یکم جنوری 1906ء) حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے بے مثال عشق تھا ایک دفعہ آپ نے فرمایا۔خدا تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم سے ایسی محبت بخشی ہے کہ میرے کسی گوشہ میں آپ ﷺ کی تعلیم آپ کی آل سے ذرا بغض نہیں رہا۔“ آپ اپنی سب سے بڑی خواہش ظاہر فرماتے ہیں۔میں تم میں ایسی جماعت دیکھوں جو اللہ تعالیٰ کی محبّ ہو۔اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلّم کی متبع ہو۔قرآن سمجھنے والی ہو۔۔۔میں اپنے مولیٰ پر بڑی بڑی اُمید رکھتا ہوں کہ وہ یہ آرزو بھی پوری کرے گا کہ تم میں اللہ تعالیٰ کی محبت کرنے والے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے کلام سے محبت رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور اس کے خاتم النبین" کے بچے متبع ہوں اور تم میں سے ایک جماعت ہو جو قرآن مجید اور سنت نبوی پر چلنے والی ہو اور میں دُنیا سے رخصت ہوں تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں میرا دل ٹھنڈا ہو۔“ (الحکم جلد 14 نمبر 41 ص 14) آپ کی بیٹی محترمہ امتہ آئی صاحبہ نے (جو بعد میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے عقد میں آئیں) اپنے والد کی وفات کے بعد دوسرے دن خلیفہ اسیح سے تحریری درخواست کی کہ درس القرآن کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔اس طرح جماعت میں جاری رہنے والے درس القرآن سے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی یہ آرزو پوری ہو رہی ہے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے عاشق تھے اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الاوّل حضرت مسیح موعود کے بھی نیچے عاشق تھے۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا۔میں حضور کی محبت اور قرب میں رہنے کو اس قدر عزیز سمجھتا ہوں کہ حضور کے حکم کے بغیر ایک منٹ بھی آپ سے علیحدگی گوارا نہیں اور اگر کوئی شخص ایک لاکھ روپیہ بھی ایک دن کی اُجرت دے اور حضرت کی اجازت اور حکم کے بغیر مجھے حضور سے جدا کرنا چاہے تو میں اس لاکھ روپے پر ہزار درجہ حضرت کے حضور ایک منٹ کی صحبت و قرب کو ترجیح ( تفسير سورة جمعه ص 63) آپ حضرت مسیح موعود کے وجود کو، آپ کی مجلس میں بیٹھنے اور آپ کے چہرہ مبارک پر نظر پڑنے کو اتنی بڑی سعادت سمجھتے کہ شکرانے کے طور پر کثرت سے درود شریف پڑھنے کی تلقین فرماتے۔ایک دفعہ شیخ کرم الہی پٹیالوی صاحب کو بتایا کہ۔دوں گا۔“ اس سے بڑا روحانی فائدہ ہوتا ہے میں نے آج کی مجلس میں تقریباً پانچ سو دفعہ درود پڑھا ہے۔“ (الدر المنظور فى لمعات النور ) ایک دفعہ خطبہ کے دوران ہی آپ کو حضرت مسیح موعود کا پیغام ملا آپ نے خطبہ بند کر دیا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد واپس آئے اور بقیہ خطبہ مکمل کیا۔اسی طرح ایک دفعہ آپ نماز توڑ کر حضور کی خدمت میں پہنچے۔( تفسیر کبیر سورہ النورص 409) ایک دفعہ فرمایا۔