گلشن احمد

by Other Authors

Page 32 of 84

گلشن احمد — Page 32

62 61 مددگاروں کی آنکھ اور میرے مخلصین دین کا خلاصہ ہے۔اس مدد گار کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے وہ مولد کے لحاظ سے بھیروی اور نسب کے اعتبار سے ہاشمی قریشی ہے وہ اسلام کے سرداروں میں سے ہے اور بزرگوں کی نسل سے ہے مجھے آپ کے ملنے سے ایسی خوشی ہوئی کہ گویا کوئی جدا شدہ جسم کا ٹکڑا مل گیا اور ایسا مسرور ہوا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ملنے سے ہوئے تھے۔مجھے سارے غم بھول گئے۔۔۔۔۔۔جب وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے ملاقات کی اور میری نگاہ ان پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ آپ میرے رب کی آیات میں سے ہیں اور مجھے یقین ہو گیا کہ وہ میری اُسی دعا کا نتیجہ ہیں جو میں ہمیشہ کیا کرتا تھا اور میری فراست نے مجھے بتا دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندوں میں سے ہے۔“ ( ترجمہ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 ص 581) آپ کی زندگی کا سب سے پہلا اور نمایاں پہلو آپ کا خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ اور تو کل تھا۔آپ اپنی ہر ضرورت پر صرف اور صرف خدا تعالیٰ سے دُعا کرتے اور خدا تعالیٰ کا آپ سے ایسا پیارا تعلق تھا کہ آپ کی ضرورت پوری کرنے کے غیب سے سامان فرما دیتا۔آپ اپنے خُدّام کو توجہ دلاتے کہ دیکھو صرف خدا تعالیٰ کے آستانے پر جھکنے سے فائدہ ہے۔آپ نے فرمایا:- ” خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ میں جنگل بیابان میں بھی ہوں تب بھی خدا تعالیٰ مجھے رزق پہنچائے گا اور میں کبھی بھوکا نہیں رہوں گا۔“ ( بدر اگست 1910ء) اسی طرح آپ فرماتے ہیں:- ” میری آمدنی کا راز خدا نے کسی کو بتانے کی اجازت نہیں دی۔(الحکم 28 اکتوبر 1909ء) چنانچہ آپ کی زندگی میں کئی ایسی مثالیں ہیں جن سے حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ کا غیر معمولی فضل ظاہر ہوتا ہے مثلاً ایک دفعہ حضرت میر ناصر نواب دار الضعفاء یا نور ہسپتال کے چندے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا میرے پاس اس وقت کچھ نہیں مگر حضرت میر صاحب نے بار بار اصرار کیا اس پر خلیفہ اُسیح الاوّل نے کپڑا اُٹھایا اور وہاں سے ایک پونڈ اُٹھا کر دے دیا اور فرمایا۔اس پر صرف نورالدین نے ہاتھ لگایا ہے۔“ ایک کشمیری دوست نے آپ کو چار سو روپیہ بطور امانت دیا۔چند دن بعد اس کا تار آ گیا کہ مجھے روپے کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ اول اس وقت مطب میں بیٹھے تھے کہ کچھ وقت کے بعد شاہ پور کے دو ہندو رئیس حاضر ہوئے اور ایک تھال میں پھل اور چار سو روپیہ پیش کیا۔وو۔( نصائح المبلغين ص8) ایک دفعہ حضرت خلیفہ امسیح الاول کی خدمت میں کتابوں کا ایک وی پی آیا وہ کتابیں آپ کو بہت پسند تھیں مگر وی پی کی رقم جو سولہ روپے تھی آپ کے پاس نہیں تھی۔اتنے میں ایک ہندو اپنا بیمارلڑکا لے کر آیا۔آپ نے نسخہ لکھ دیا وہ ایک اشرفی اور ایک روپیہ رکھ کر چل دیا۔آپ نے اُسی وقت سجدہ شکر ادا کیا اور فرمایا۔میں اپنے مولیٰ پر قربان جاؤں کہ اس نے مجھے شرمندہ