گلشن احمد — Page 31
60 59 حضرت حکیم مولوی نور الدین خلیفہ اسیح الاوّل (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) حضرت حکیم نور الدین 1841ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام حضرت حافظ غلام رسول صاحب اور والدہ کا نام نور بخت صاحبہ تھا۔والد کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی اور والدہ کی طرف سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے۔آپ کی والدہ بہت نیک دل خاتون تھیں۔پچاسی سال کی عمر میں وفات پائی اور ساری عمر ہزار ہا بچوں کو قرآن پاک پڑھایا۔حضرت حکیم نور الدین نے ابتدائی تعلیم اپنے والدین سے حاصل کی اور پھر تعلیم حاصل کرنے کے لئے لاہور، ہمیئی لکھنو، بھوپال کے سفر کئے چوبیس پچیس سال کی عمر میں حج کی سعادت نصیب ہوئی۔بیت اللہ شریف پر نظر پڑتے ہی آپ نے دُعا کی۔وو الہی میں تو ہر وقت محتاج ہوں اب میں کون کون سی دُعا مانگوں پس میں یہی دُعا مانگتا ہوں کہ جب میں ضرورت کے وقت تجھ سے دُعا مانگوں تو اُسے قبول کر لیا کر۔“ قیام مدینہ کے دوران کئی بار رویا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔1876ء سے 1892ء تک آپ ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ کے شاہی طبیب کی حیثیت سے وہاں مقیم رہے۔آپ کی قابلیت اور علمیت کا بہت شہرہ تھا۔دُنیائے اسلام کا ہر قابل ذکر عالم آپ کے علمی ،روحانی اور اخلاقی کمالات کا معترف تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کا تعارف اسلام کی تائید میں شائع ہونے والے مضامین سے ہوا اور پھر مارچ 1885ء میں پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر نظر پڑتے ہی حضور کی صداقت پر کامل یقین ہو گیا۔23 مارچ 1889ء کو بیعت کرنے والوں میں اولیت کا شرف حاصل ہوا۔حضرت مسیح موعود کی خواہش کے مطابق بھیرہ سے قادیان منتقل ہو گئے۔1871ء میں محترمہ فاطمہ بی بی بنت شیخ مکرم قریشی عثمانی سے اور 1900ء میں محترمہ صغری بیگم بنت حضرت صوفی احمد جان سے شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیان سے آپ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا۔” جب سے میں خدا تعالیٰ کی درگاہ سے مامور کیا گیا ہوں اور حی و قیوم نے مجھے نئی زندگی بخشی ہے۔مجھے دین کے چیدہ مددگاروں کا شوق رہا ہے اور وہ شوق پیاسے سے بڑھ کر رہا ہے میں خدا تعالیٰ کے حضور آہ وزاری کرتا تھا اور عرض کرتا تھا کہ الہی میرا ناصر و مدد گار کون ہے میں تنہا اور بے حقیقت ہوں پس جب دُعا کا ہاتھ مسلسل اُٹھا اور فضائے آسمانی دعاؤں سے معمور ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے میری عاجزانہ دُعا قبول کی اور رب العالمین کی رحمت جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مخلص اور صدیق عطا فرمایا۔جو میرے