گلشن احمد — Page 30
58 57 نادر کتب خانے جلا دیے۔خلافت راشدہ کے بعد اسلامی حکومتیں جغرافیائی لحاظ سے پھیلتی رہیں۔مگر جہاں تک اسلام کی تعلیمات پر عمل کا تعلق ہے اس رسی پر اُن کی گرفت مضبوط نہ رہ سکی۔270 ہجری کے بعد دو ایسے دردناک واقعات ملتے ہیں جن سے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچا۔271 ہجری میں اسپین کی اسلامی حکومت نے پاپائے روم سے مدد کی استدعا کی تا کہ مل کر بغداد کی اسلامی حکومت کو ختم کر سکیں اور 272 ہجری میں بغداد کی اسلامی حکومت نے قیصر قسطنطنیہ کی بازنطینی حکومت سے استدعا کی کہ آؤ مل کر اسپین کی اسلامی حکومت کو ختم کریں۔اس طرح عیسائی حکومتیں بیبا کی سے مسلمانوں کو ہزیمت پہنچانے کے درپے ہو گئیں۔مسلمانوں کی کمزوری کا بڑا سبب تبلیغ اسلام کے فریضے کو پس پشت ڈالنا تھا۔اگر وہ اپنی تعلیمات پر قائم رہتے اور اُسی کی تبلیغ کرتے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ہمیشہ سر بلندی عطا کرے گا۔اللہ پاک کی تائید شاملِ حال نہ رہنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خلافت کا منصب کمزور ہو گیا تھا۔جب تک یہ ایمان رہا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اتحاد رہا لیکن جب لوگ یہ سمجھنے لگے کہ خلیفہ تو ہم خود بن سکتے ہیں یا لوگ بنا سکتے ہیں۔اتحاد کی بنیادی وجہ ہاتھ سے نکل گئی۔شخصی حکومتیں قائم ہوئیں جو جبر و تشدد سے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتیں جس سے حکمرانوں اور رعایا میں فاصلے بڑھے۔یہ فاصلے حکومتوں کی کمزوری ، بغاوتوں اور شورشوں کی صورت میں ظاہر ہوئے۔تباہی کا ایک بڑا سبب اپنے مذہبی مراکز کو کمزور کر کے سیاسی مراکز قاہرہ، دمشق ، بغداد، اصفہان ، بخارا وغیرہ کو مضبوط کرنا تھا۔مرکز جتنا مضبوط ہوتا ہے اسی قدر جماعت مضبوط ہوتی ہے۔مرکز کی کمزوری سے مسلمانوں کا شیرازہ بکھر گیا۔اسلامی روح کمزور ہو گئی۔آپس میں فرقہ واریت کا فرسازی ، خانہ جنگیوں اور جانشینی کے جھگڑوں نے اندر سے مسلمانوں کو کھوکھلا کیا۔مذہبی ٹھیکیداروں اور ملاؤں نے مذہب کا حلیہ بگاڑ دیا۔جس قسم کا مذہب وہ پیش کرتے تھے اُس سے مذہب سے نفرت پیدا ہوئی۔پیارے بچو یہ مختصر حالات آپ کے سامنے اس لئے پیش کئے ہیں کہ آپ ترقی اور زوال کی وجوہات پر غور کریں اور نہ صرف ان علاقوں پر بلکہ ساری دُنیا کے چنتے چنتے پر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم لہرانے کے لئے اپنی بہترین صلاحیتیں وقف کر دیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے قدم آگے سے آگے بڑھاتا رہے۔آمین۔میرے آنسو اس غم دل سوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویراں ہے اور دنیا کے ہیں عالی منار (ڈرمین)