گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 37 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 37

۳۷ ترجمہ اور دیکھو ہم تمہارا امتحان لیں گے کسی قدر خوف سے اور فاقہ سے اور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے اور آپ صبر کرنے والوں کو بشارت دیں کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ( مال و اولاد سمیت اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔اور ہم اللہ ہی کے پاس جانے والے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ مصائب ہی میں انسان کے جو ہر کھلتے ہیں آئے اب ذرا ہم سرور کائنات آنحضور ﷺ کی حیات طیبہ پر ایک نظر ڈالیں آپ نے اپنی زندگی میں ہر قسم کی مصیبت کو جھیلا مگر آپ کے چہرہ مبارک پر ہمیشہ مسکراہٹ ہی آویزاں رہی اس موضوع پر مندرجہ ذیل اقتباس حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد کی مشہور کتاب دیباچہ تفسیر القرآن سے لیا گیا ہے : رسول کریم ﷺ کی زندگی دنیوی طور پر بھی نہایت ہی تلخ طور پر گزری ہے۔پیدائش سے پہلے ہی اپنے والد کی وفات پھر والدہ اور دادا کی یکے بعد دیگرے وفات۔پھر جب شادی ہوئی تو آپ کے بے متواتر فوت ہوتے چلے گئے اسکے بعد پے در پے آپ کی کئی بیویاں فوت ہو ئیں جن میں حضرت خدیجہ جیسی باوفا اور خدمت گزار بیوی بھی تھیں مگر آپ نے ان سب مصائب کو خوشی سے برداشت کیا اور ان غموں نے نہ آپ کی کمر توڑی نہ آپ کی خوش مزاجی پر کوئی اثر ڈالا۔دل کے زخم کبھی آنکھوں سے نہیں پھوٹے چرہ ہر ایک لئے بھاش رہا اور شاذ و نادر ہی کسی موقع پر آپنے اس درد کا اظہار کیا۔ایک دفعہ ایک عورت جسکا لڑکا فوت ہو گیا تھا اپنے لڑکے کی قبر پر ماتم کر رہی تھی۔رسول کریم ہے وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا۔اے عورت صبر کر خدا کی مشیت ہر ایک پر غالب ہے وہ عورت رسول کریم ہی ہے کو پہچانتی نہ تھی اپنے آگے سے جواب دیا جس طرح میرا چہ مرا ہے تمہارا چہ بھی مرتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ صبر کیا ہے رسول کریم ﷺ وہاں سے صرف یہ کہہ کر آگے چل پڑے ایک نہیں میرے سات بچے فوت ہو چکے ہیں پس اس قسم کے موقع پر اتنا اظہار تھا جو رسول کریم ﷺ اپنے گزشتہ مصائب پر کبھی کر دیتے تھے ورنہ نبی نوع انسان کی خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی نہ آپ کی بھاشت میں کوئی فرق آیا (صفحہ ۲۴۷) یہ آپ کی مقنا طیسی شخصیت کا امتیازی وصف تھا حضرت علی کرم اللہ نے کیا خوب آپ کے کردار کو ان الفاظ میں پیش کیا ہے : آپ حضور ہر کس و ناکس سے بھاشت۔شادمانی اور