گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 38 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 38

لمنساری سے پیش آتے تھے ایک اور معزز صحافی جناب جریر این عبد اللہ کا بیان ہے کہ جب کبھی آپ مجھے نظر آتے آپ مسکرا دیتے تھے۔یہ بات اس مضمون میں پہلے بھی بیان کی جا چکی ہے کہ زندگی اونچ نیچ۔یعنی زیرو ہم کا نام ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے اگر زندگی تمہارے لئے مصیبت ہے تو شکایت مت کرو تمہارا چہرہ تمہارے دل کو چھپالے تمہاری ہمت اونچی اور تمہاری روح خوش ہو اور ہر مصیبت کا کھلے بازوں سے استقبال کرو۔ہمیشہ خوش رہو زندہ دلی کی عادت ڈالو مسکراتے رہو حضرت میرزا ناصر احمد صاحب کے مندرجہ ذیل خطاب کو جو انہوں نے نوجوانوں سے کیا اس پر عمل پیرا ہو آپ حضور نے فرمایا : مسکرانے کی عادت ڈال کر دوسروں کے لئے ضرب المثل ہو یہ ایسی چیز ہے جو متعدی بیماری کی مانند دوسروں کو بھی اپنے اثر میں لے لیتی ہے یہ ہر خادم احمدیت کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ مسکرائے اور ہنسے خادم بننے کیلئے ضروری ہے کہ اسکا چہرہ مسکراہٹ کے زیور سے آراستہ ہو یہ جملہ فرائض میں سے پہلا فرض ہے میری لڑکی کا بڑا بیٹا بہت خوب صورت تھا مگر پیدائش کے معا بعد وہ رحلت کر گیا جب میں نے اپنی لڑکی کے سامنے اظہار افسوس کرنا چاہا تو میں نے اس کو مسکراتے پایا اس چیز نے مجھے بہت خوش کیا تو میں نے اس کو اسی وقت اسی جگہ یہ کہا کہ خدا ضرور تجھے ایسا فرزند عطا کرے گا جس کی زندگی بہت لمبی ہو گی چنانچہ اللہ تعالیٰ انے اسے دوسرے بیٹے سے نوازا۔میرے حالیہ افریقہ کے دورہ کے دوران میں نے ایک جلسہ میں پانچ سے چھ ہزار احمدیوں سے مصافحہ کیا مجھے بتلایا گیا کہ متعدد احمد کی حیران تھے کہ میں نے ہر ایک کا کیسے مسکراتے ہوئے استقبال کیا اس چیز پر نہ تو میر ا چپیسہ لگا نہ ہی وقت اور مسکراتے چہرہ نے کمال کر دکھایا الغرض میں تمہیں یہ نصیحت کر رہا ہوں کہ خوش خلق عادات انسان پر دیر پا اثر چھوڑتی ہیں۔( خطاب حضرت میرزا ناصر احمد صاحب)