گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 36 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 36

خوش مزاجی میں نے آنحضور ﷺ سے زیادہ کسی اور شخص کو مسکراتے نہیں دیکها ( روایت حضرت عبداللہ بن حارث) ہر وقت بڑبڑانے والا اور شکایتی شخص کسی کے دل کو نہیں بھاتا ہے۔ایسے شخص سے ہر کوئی کنی کتراتا ہے کیونکہ اس کی موجودگی سے پاس وقنوطیت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ خوش رہنا پسند کرتے ہیں مگر اس کیساتھ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ لوگوں کی اکثریت خوش رہنے کے راز سے ناواقف اور محروم ہے اور اگر بادل نخواستہ وہ یہ راز جان بھی لیں تو بھی وہ روزانہ زندگی میں خوشی کی نعمت سے محروم رہتے ہیں کیونکہ وہ خوش رہنے کے بنیادی اصولوں سے نابلد ہیں بلا شبہ خوشی اور فرحت کے بھی درجات ہیں مگر خوش رہنے کی کیفیت عارضی نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ اس حالت کا نام ہے جو انسان کے ذہن میں ہر وقت چھائی رہتی ہے اور انسان مصائب اور گوناگوں آلام کے سامنے بھی مسکراتا رہتا ہے دنیا کے کام کاج خوشگوار طریق سے بہت ہی کم انجام پاتے ہیں ہر صورت اور ہر سائز کی مصیبت۔چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی در حقیقت اس میں رحمت اور فائدہ پنہاں ہوتا ہے مصائب و آلام کے اندر بلا شبہ بڑے بڑے فوائد اور کامیابیوں کے بیچ پنہاں ہوتے ہیں یہ چیز کسی غیر تجربہ کار شخص کو شاید پا گل کی بڑ محسوس ہو مگر ہے یہ ایک حقیقت قائمہ۔ایک اور بات یہ ہے کہ مصائب سے ہمارا کردار سنورتا ہے قرآن مجید میں اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں :۔وَلَنَبْلُوَ نَكُم بِشَرِ مِنَ الخَوفِ وَالجُوعِ وَنَقصِ مِنَ الأمْوَالِ وَلا نفسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَمَا بَنهُم مُصيبَةُ قَالُو انا لله وإنا إلَيهِ رَاجِعُون ( البقرة سورۃ ۲ آیت نمبر ۷ ۱۵-۱۵۶) |