گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 33 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 33

٣٣ کا اجر دیا جائیگا ایک فعل اس وقت نیک قرار پائیگا جب وہ کسی ذاتی مفاد کے بغیر انجام دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی میں نیکی کے درج ذیل تین درجات کا ذکر فرمایا ہے :۔اول یہ درجہ کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کی جائے۔یہ تو کم درجہ ہے اور ادنی درجہ کا پھلا مانس آدمی بھی یہ خلق کر سکتا ہے کہ اپنے نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کر تار ہے۔دوسرا درجہ اس سے مشکل ہے اور وہ یہ کہ ابتداء آپ ہی نیکی کرنا اور بغیر کسی کے حق کے احسان کے طور پر اس کو فائدہ پہچانا اور یہ خلق اوسط درجہ کا ہے اکثر لوگ غریبوں پر احسان کرتے ہیں اور احسان میں یہ ایک مخفی عیب ہے کہ احسان کرنے والا خیال کرتا ہے کہ میں نے احسان کیا ہے اور کم سے کم وہ اپنے احسان کے عوض میں شکر یہ یادعا چاہتا ہے اور اگر کوئی ممنون منت اس کا اس کے مخالف ہو جائے تو اسکا نام احسان فراموش رکھتا ہے بعض وقت اپنے احسان کی وجہ سے اس پر فوق الطاقت بوجھ ڈال دیتا ہے اور اپنا احسان اس کو یاد دلاتا ہے جیسا کہ احسان کر نیوالوں کو خدا تعالیٰ نے متنبہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔۔۔۔لا تبطلوا صد قُتِكُم بِالمَن وَالأذَى ( البقرة (۲۶۵) یعنی اے احسان کرنے والو اپنے صدقات کو جن کی صدق پر بناء چاہئے احسان یاد دلانے اور دکھ دینے کے ساتھ مت بر باد کرو۔یعنی صدقہ کا لفظ صدق سے مشتق ہے پس اگر دل میں صدق اور اخلاص نہ رہے تو وہ صدقہ صدقہ نہیں رہتا ہے بلکہ ایک ریا کاری کی حرکت ہو جاتی ہے غرض احسان کرنے والوں میں یہ خامی ہوتی کہ کبھی غصہ میں اگر اپنا احسان یاد دلاتا ہے اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے احسان کرنے والوں کو ڈرایا