گلدستہٴ خیال — Page 34
تیسر ادرجہ ایصال خیر کا خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بلکل احسان کا خیال نہ ہو اور نہ شکر گزاری پر نظر ہو بلکہ ایک ایسے ہمدردی کے جوش سے نیکی صادر ہو جیسا کہ ایک نہایت قریبی مثلاً والدہ محض ہمدردی کے جوش سے اپنے بیٹے سے نیکی کرتی ہے یہ وہ آخری درجہ ایصال خیر کا ہے جس سے آگے ترقی کرنا ممکن نہیں ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۲۲ اور ۶۳) یادر ہے کہ جملہ مذاہب کے تمام بانی نیک کام کر نیکی اعلیٰ ترین مثال تھے آنحضور ہے غرباء اور محتاجوں کا اس قدر خیال کر رکھتے تھے کہ آپ ہر وقت صدقہ و خیرات میں مصروف رہتے تھے۔اگر چہ آپ دینی اور دنیوی لحاظ سے سب سے بڑے اور مکرم اور افضل انسان تھے مگر آپ کا طرز زندگی بہت ہی سادہ تھا آپ کو مومنوں سے جو کچھ ملتا آپ اسے دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے بائیل میں مذکور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی نیک کام کیا کرتے تھے (10۔38 :ACT) آئیے اب ہم روز مرہ زندگی میں سے چند عام انسانوں کی مثالیں لیتے ہیں جارج پی باڈی Peabody گزشتہ صدی کا عظیم پیکر اور سرمایہ دار ہو گزرا ہے اس نے اپنی تمام دولت نیک کاموں کے لئے صرف کر دی اس کے بارہ میں مقولہ مشہور ہے اس کے سامنے نیکی کا جو موقعہ آیا اس نے اسے ہاتھ سے نہ جانے دیا پھر لارڈ شافٹ بری Shaftbury کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ گزشتہ صدی میں ہونے والے سوشل ریفارم پر اسکا بہت اثر تھا وہ بہت بڑا انسان دوست شخص تھا پھر اینڈریو کارنیگی Carnagie ایک سکاٹش پارچہ باف کا عاجز بیٹا تھا جس نے امریکہ میں اسٹیل انڈسٹری میں بہت نام پیدا کیا اس نے انسانیت کی خدمت کے لئے اپنی تمام دولت صرف کر دی اسنے امریکہ برطانیہ یوروپ افریقہ اور نجی میں تین ہزار لائبر مریاں قائم کرنے میں اپنی دولت بے دریغ خرچ کر دی اسکا کہنا تھا کہ جو شخص امیر حالت میں مرتا ہے وہ بے