گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 14 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 14

والا ایسے شخص میں بظاہر کوئی جذباتی تغیر نہیں دیکھ سکتا حضرت میرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی پہلی دختر عصمت سے بہت لگاؤ تھا جب وہ بیمار ہوئی تو آپ نے اسکی بہت دیکھ بھال کی لیکن جب وہ بقضائے الہی فوت ہو گئی تو ایسا محسوس ہو تا تھا گویا آپ اسے بلکل بھول گئے ہیں۔آپ نے خدائے تعالی کی مر ضی کے آگے سر تسلیم خم کر دیا تھا ایک اور موقعہ پر بعض عیسائی پادریوں نے آپ کے خلاف قتل کا جھوٹا مقدمہ دائر کر دیا ایسی حالت میں عموما لوگ بے چینی اور اضطراری کا اظہار کرتے ہیں مگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ بلکل پر سکون رہے کسی کو گمان بھی نہ ہو تا تھا کہ آپ پر قتل کا الزام عائد ہے جس شخص کو سکون قلب حاصل ہو وہ کبھی گبھراتا نہیں۔زندگی یا موت صحت کی خراطی مصائب و تکالیف اسکو پریشان نہیں کرتے اگر چہ ایسا شخص ان مصائب کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے لیکن اپنے سکون و حرکات پر اسے پورا ضبط حاصل ہوتا ہے قرآن پاک میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ انسان کو مختلف مصائب میں مبتلا کر کے صبر سکھاتا ہے ارشاد ہوتا ہے وَلَنَبْلُوَ نَكُم بِشَيْ مِنَ الخَوفِ وَالجُوعِ وَ نَقصِ مِنَ الامْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرينه الذِينَ إِذَا أَمَا بَتَهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُو إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَا جَعُونَ (سورۃ ۲ آیت نمبر ۱۵۶ ۱۵۷) حقیقت تو یہ ہے کہ تکالیف اور مصائب کے دوران ہی انسان کی صحیح پہچان ہوتی ہے جبکہ انسان کو تمام نیکیوں سے افضل نیکی یعنی صبر کے مظاہرہ کا موقعہ ملتا ہے سفلی جذبات کو زیر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے مبارک ہیں وہ لوگ جو اس میں کامیاب ہوتے ہیں بعض لوگ بڑے نیک اور بزرگ سمجھے جاتے ہیں مگر ذراسی بات پر وہ اس قدر بے صبری اور غم و غصہ کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے معتقدین حیران و ششدر رہ جاتے ہیں ہمارے اس مضمون کا مقصد سکون قلب کی جاذبیت کی طرف قارئین کی توجہ