گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 142 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 142

۱۴۳ اس وقت حالات کچھ اس قسم کے وقوع میں آئے کہ جنکی بناء پر لیفٹیننٹ آرچرڈ کو آفسیر ز سیلیکشن بورڈ کلکتہ کے سامنے دوبارہ پیش ہونا پڑا شاید انہوں نے اپنی ڈوگرہ رجمنٹ میں جانا چاہا ہو میں نے اس بارہ میں کبھی ان سے دریافت نہیں کیا اس دوران جب وہ کلکتہ میں تھے انہوں نے وہاں جماعت احمدیہ کے دفتر کا پتہ چلا لیا وہ دفتر میں جاکر کافی دیر تک بیٹھے رہتے اور جماعت کے لٹریچر کا مطالعہ کرتے رہتے۔نیز احمدیوں سے بات چیت کر کے سلسلہ کے متعلق تحقیقات کرتے کلکتہ سے واپسی پر وہ ۲۵۵ ٹینک بریگیڈ آرڈینینس میں تبدیل ہو گئے جسکی وجہ سے میرے اور انکے آفیسر اور ماتحتی کے تعلقات منقطع ہو گئے چونکہ ۲۵۵ ٹینک بریگیڈ بھی برما کے محاذ پر مصروف عمل تھا آرچر ڈ صاحب ایک شام میرے دفتر میں آئے میں اور دوسرے کلرک کثرت کار کے باعث ابھی تک دفتر میں کام میں مصروف تھے انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کس وقت کام ختم کرو گے ؟ میں نے کہا کیوں ؟ کہنے لگے مجھے اکیلے میں تم سے گفتگو کرنی ہے میں نے جواب دیا کام بعد میں ختم کر لوں گا پہلے آپ سے بات کر لوں۔وہ مجھے دور فاصلے پر لے گئے اور بولے عبد الرحمن مجھ پر یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ احمدیت ہی سچا مذ ہب ہے مگر بڑی مشکلات ہیں اتنی مشکلات کہ تم ہندوستان کے رہنے والے اسکا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے میں نے جواب دیا کہ آپ درست فرماتے ہیں لیکن میں آپ کی مشکلات کا اندازہ خوبی لگا سکتا ہوں اور میرے دل میں ان تکالیف کیلئے درد بھی ہے اور مجھے احساس بھی ہے کہنے لگے میں اپنی قومیت کھو دوں گا علاوہ ازیں انہوں نے مجھے کئی باتیں بتائیں جسکا جواب میں نے انکو یہ دیا کہ آپ ابھی تک عیسائی ہیں اور اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیم پر ذرہ بھر بھی آپ کا عمل ہے تو پھر دیکھئے کہ نئے عہد نامہ میں مسیح نے کیا فرمایا وہ فرماتے ہیں پہلے خدا اور راستبازی کی تلاش کرو اور یہ چیزیں ( مراد دنیا اور اسکی شان و شوکت)