گلدستہٴ خیال — Page 143
۱۴۴ خود خو د مل جائیں گی میں نے عرض کیا کہ آپکو تو خداوند تعالٰی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اسکے فضل سے آپ پر صداقت ظاہر ہو گئی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ دنیا میں وہ لوگ جو صداقت قبول کرتے ہیں انکو بڑی بڑی آزمائشوں سے گذرنا پڑتا ہے انہوں نے بتایا کہ وہ چھپ چھپ کر نماز پڑھتے ہیں اور لوگ انہیں پاگل سمجھنے لگے ہیں تاش بھی کھیلنے چھوڑ دئے ہیں اور شراب بھی پینی چھوڑ دی ہے انکی اس تبدیلی پر میں نے خداوند تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔بعد ازاں وہ قادیان گئے غالبا ۲۸ دن تک وہ قادیان میں رہے اور وہیں انہوں نے احمدیت قبول کرلی لیکن مجھے اس وقت اسکا علم نہیں ہو سکا بلکہ کافی عرصہ کے بعد پتہ چلا کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے قبول اسلام کے بعد احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کے بعد وہ جہاں کہیں بھی جاتے پہلے انکا یہ کام ہو تا کہ اس شہر میں جا کر احمد یہ جماعت کا پتہ چلاتے اور وہاں با قاعدہ جمعہ کی نماز با جماعت ادا کرتے دوران سفر یا جہاں کہیں وہ کسی انڈین آفیسر کو دیکھتے اس سے دریافت کرتے کہ آیادہ ہندو ہے یا مسلمان اگر معلوم ہوتا کہ مسلمان ہے تو پھر اس سے دوسراسوال یہ کرتے کہ کیا وہ احمدی ہے یا غیر احمدی۔انتہا یہ کہ میں میں جب کہیں کھانا کھانے جاتے وہاں انکا یہی رویہ ہو تا ایک احمد کی ڈاکٹر کیپٹن سے دریافت کیا کہ کیا آپ مسلم ہیں یا غیر مسلم انہوں نے جو لبد یا مسلم۔پھر آرچرڈ صاحب نے پوچھا کیا احمدی یا غیر احمدی ؟ کیپٹن صاحب نے انکو بتایا کہ وہ احمد کی ہیں آرچرڈ صاحب نے ان سے مزید کوئی بات نہیں کی عین اس وقت جب نماز کا وقت ہوا تو آرچرڈ کھڑے ہو گئے اور کیپٹن صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ چلو نماز پڑھیں کیپٹن صاحب نے جواب تک آرچرڈ کو انگریز عیسائی سمجھے بیٹھے تھے محو حیرت ہو گئے میں جس بریگیڈ میں تھاوہ برما سے واپس آن کر احمد نگر میں مقیم ہوا جہاں آرچرڈ صاحب