گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 123 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 123

۱۲۳ شکر گزار ہوتا ہے میں یہاں اپنی زندگی کا ایک واقعہ جو ۱۹۵۵ء میں ویسٹ انڈیز کے جزیرہ اینٹی گنوا میں ہوا بیان کرتا ہوں میرے حالات نا مساعد تھے ایک دو پھر جب میری مشکل کا میرے ذہن پر بہت اثر چھایا ہوا تھا اچانک خدا سے میرے تعلق کا مجھے احساس ہوا تو میں نے الحمد للہ کا ورد شروع کر دیا جب میں نے بار بار الحمد للہ۔الحمد للہ کے الفاظ دہرائے تو میر اذھن ایک تازہ اور پر سکون احساس سے بھر گیا جسنے میرے خوابیدہ ذہن کو اطمینان بخشا میرے وجود میں سکون کی لہر دوڑ گئی مجھے احساس ہوا کہ اس دنیا کی مشکلات اور امتحان دراصل خفیہ رحمت ہیں اور فی الحقیقت خدا سے تعلق اور محبت ہی وہ چیز ہے جو قابل اہمیت ہے يقوم إِنَّمَا هَذِهِ الحَيَوةُ الدُّنيَا مَتَاعَ - وَإِن الآخِرَةَ هِيَ دَارُ القَرار ( ۲۰:۲۰) اے بھا ئیو یہ دنیوی زندگی تو صرف چند روز کا فائدہ ہے دراصل اخروی زندگی ہی یقینا پائیدار ٹھکانا ہے دنیا جسم کو تو تباہ کر سکتی ہے مگر وہ روح کو کبھی بھی تباہ نہیں کر سکتی مصائب اور افتاد ہمیں نفع یا نقصان ہمارے دماغی رجمان کے مطابق ہی پہنچا سکتے ہیں ایک مصنف نپولین ہل نے اپنی کتاب کا میابی کے اصول میں کیا خوب کہا ہے میں ان مصائب کا مسنون احسان ہوں جنکا مجھے سا منا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے نفس اور دوسرے خوا ہوسکتا ہمدردی، ضبط مند کیا ورنه شايده ان سے کبھی بھی متعارف مثبت رجحان سے ہم ہر افتاد میں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتے ہیں لہذا ہمیں مصائب اور خوش قسمتی دونوں کا مشکور ہونا چاہئے۔۔آنحضور ﷺ کی حدیث کے مطابق کچے مسلمان کی زندگی ہر وقت نیکی سے معمور ہوتی ہے مومن کے سوا کوئی اسکو نہیں جان سکتا کیونکہ جب وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا تو وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے جسکے عوض وہ خدا کے مزید