گلدستہٴ خیال — Page 122
۱۲۲ شکر گزاری کے وَمَن يُشْكُرْ فَا نَمَا يَشْكُرْ لِنَفْسِهِ ( سورۃ ۳۱ آیت (۱۳) اور جو شخص بھی شکر کرتا ہے اس کے شکر کر نیکا فائدہ اسی کی جان کو پہنچتا ہے آئیے ہم خداوند کریم کے بے شمار احسانات اور نعمتوں کا شکر ادا کریں جو اس ذات پاک نے ہم پر اس دنیا میں نازل کئے ہیں شکر کے جذبات کا اظہار حقیقی مسرت کا راز ہے جبکہ ناشکری سے فکر۔الم اور یاس کا اظہار ہوتا ہے۔شکر گزار انسان خدا کا ہر حالت میں شکر مند ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اسکی نسبت تنگ دستی کی زندگی بسر کر رہے ہیں خدا کی معرفت اور ذاتی تعلق در حقیقت بہت قیمتی نعمت ہے اسکے ماسوا اشیاء کی کوئی اصل اور دائی حقیقت نہیں ہے جس شخص نے خدا کو پہچان لیا ہو اس پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اس پر مطمئن رہتا ہے یہ جان کر کہ اسکو خدا کی آغوش میں حفاظت مل گئی ہے اسکو دنیا کی کوئی طاقت یا چیز سیدھے راستہ سے نہیں ہٹا سکتی وہ رب کریم کا ہر وقت دلی شکر یہ ادا کرتا ہے ان روحانی انعامات کا جو خدا نے اس پر کئے ہیں۔۔۔ولتكبر و الله عَلَى مَا هَذَا كُم لَعَلَّكُم تشكرونه ( سورة ٢ آیت (١٨٦) اور اس بات پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے اور تاکہ تم اسکے شکر گزار ہو مسلمان کو اس بات کی تلقین کی جاتی ہے کہ وہ خداوند کریم کی حمد کرے اور اسکا شکریہ ادا کرے کہ خدا نے جملہ احسانات میں سے اسکو روحانی ہدایت کی نعمت سے نوازا یہ چیز مسلمان کیلئے بہت عزیز ہے دنیا کی کسی بھی سہولت سے اگر وہ محروم ہو جائے تو پھر بھی وہ برابر خدا کا