گلدستہٴ خیال — Page 124
۱۲۴ انعامات کا مستحق ہوتا ہے اس کے بر عکس اگر وہ آزمائش یا تکلیف میں مبتلا ہو تا تو وہ اسے صبر کے ساتھ جھیلتا ہے اور یوں وہ دوبارہ خدا کے انعامات کا مستحق بن جاتا ہے قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے : وَكَذَلِكَ نَجزَى كُل كَفُور ( سورۃ ۳۵ آیت ۳۷) ہم ہرنا شکرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔ایک اور جگہہ ارشاد ہوتا ہے لا يُفْلِحُ الكَافِرُونَ (سورة ۲۸ آیت (۸۳) نا شکرا شخص کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا ہے انسانی فطرت ہے کہ ہم ان بے شمار نعمتوں اور احسانات کو تو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہماری زندگی کی زینت ہیں مگر چند افتادوں کے آنے پر رنج والم کا وا ویلا کر تے ہیں لوح محفوظ ہمیں ایسے منفی رجحان سے خوب آگاہ کرتی ہے : وَإِن رَبِّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِن أكثَرَهم لا يشكرون ) سورۃ ۲۷ آیت (۷۴) اور تیرا رب لوگوں پر فضل کرنیوالا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔۔آئیے ہم مثبت رجحان کو اپنے اندر پیدا کریں اور زندگی کی نعمتوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں آیئے ہم ایک معصوم بچے کی طرح خدا کے احسانات کے شکر مند ہوں Thank you for the world so sweet Thank you for the food we eat Thank you for the birds that sing Thank you God for every thing ولیم شیکسپیر نے شکر کے جذبات کا اظہار ان قدرے خوبصورت الفاظ میں کیا ہے : اے خدا تو نے مجھے زندگی کی نعمت عطا کی۔مجھے ایسا دل عطا کر جو شکر سے لبریز ہو شکر گزاری کو دل کی یاد داشت کہا گیا ہے خدا تعالیٰ نے نہ صرف ایسے لوگوں کے لئے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کیلئے اچھے بدلہ کا بھی وعدہ دیا گیا ہے قرآن مجید دلکش الفاظ میں شکر گزاری کا یوں ذکر کرتا ہے : سنجزى الشاكرين (سورۃ ۳ آیت ۱۳۵) خدا شکر گزار بندوں کو