گلدستہٴ خیال — Page 100
ہو جائے تو اسکو ایسے شخص کے ساتھ تین روز کے اندر مصالحت کر لینی چاہئے ایسا اقدام دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں بنیادی چیز ثابت ہوتا ہے جس سے شاید تعلقات پہلے سے بھی زیادہ گہرے ہو جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں : ادْفَعَ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَا ذَالذِي بَينَكَ وَبَيْنَهُ عَدَا وَهُ كَانَهُ وَلِى حَمِيمٍ ( سورة ٢١ آیت (۳۵) اور تو برائی کا جواب نہایت نیک سلوک سے دے اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ شخص کہ جس کے اور تیرے در میان عداوت پائی جاتی ہے وہ تیرے حسن سلوک کو دیکھ کر ایک گرم جوش دوست بن جائیگا وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَانٌ ذَلِكَ لِمَن عَزم الأمور ) سورة ۴۲ آیت (۴۴) اور جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو (اسکا) یہ (کام) بڑی ہمت والے کاموں میں سے ہے أَلَا تُحِبُونَ أَن يَغْفِرَ اللَّه لَكُم - وَالله غَفُورٌ رَّحِيم ٥ ( سورة ٢٤ آیت (۲۳) کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کر دے اور اللہ بہت معاف کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے خدا کے عاجز ہندے کو چاہئے کہ وہ تمام انسانوں کیلئے اپنے دل میں محبت کو نمود دے اگر چہ اس سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ اسکی محبت والفت کی گہرائی ہر ایک کے لئے ایک جیسی ہو یہ فطری بات ہے کہ بعض اشخاص کے ساتھ اسکو دوسروں سے زیادہ الفت ہو گی مگر انسان کا ماٹو یا دستور العمل وہی ہونا چاہئے جو حضرت میرزا ناصر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تھا یعنی محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ا خدا کے عاجز ہندے کو اپنے تمام بھائیوں اور بہوں پر نظر التفات رکھنی چاہئے اسکا دل انکی ضروریات دکھ دردیا آفات کو رفع کرنے کیلئے لبریز ہو جانا چاہئے اسکو اپنے سب دوستوں اور دشمنوں کیلئے دعائے خیر مانگنی چاہئے یہی اسلامی روح ہے اگر چہ سزا کو بھی غیر ضروری نہیں اگر : سمجھا جاتا لیکن جب اسکی مناسب ضرورت ہو۔خدا کا عاجز بندہ (عبد اللہ ) انسان میں گناہوں سے نفرت کرتا ہے نہ کہ انسان سے نفرت کرتا۔حضرت میرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ |