گلدستہٴ خیال — Page 99
۹۹ و عبد الله کی که جو شخص خود کو خدا کا عاجز ہندہ تصور کرتا ہے اس کو دوسرے انسانوں کے ساتھ اپنے کئی قسم کے رشتوں کے بارہ میں بڑے غور سے توجہ دینی چاہئے اس بارہ میں سب سے اہم چیز انسان کے خیالات پر کنٹرول ہے جو کہ انسانی کردار اور رویہ کے لئے بیچ کی حیثیت رکھتا ہے انسانی دماغ فی الحقیقت زرخیز زمین کی مانند ہے اس زمین میں وہی کچھ نکلتا ہے جو اسمیں بویا جاتا ہے انسان اپنے دماغ کے گلشن کا باغبان ہے وہ اپنی مرضی کے مطابق اسمیں بیچ ہو سکتا ہے اس میں وہی پودے ( یعنی اعمال) پیدا ہوں گے جن کے بیچ وہ ہوتا ہے انسان میں یہ طاقت بھی موجود ہے کہ وہ اس دماغ کے گلشن میں سے جڑی بوٹیاں اکھاڑ پھیے جو کہ صرف خدائے تعالیٰ کی تائید سے ممکن ہوتا ہے انسان اپنی روح کا بھی مالک اور قائد ہے بلکہ وہ اپنے سر نوشت۔نصیب اور حالات کا بھی مکھیا ہے انگلش کے ذرا درج ذیل مقولوں پر غور فرمائیں : As he thinketh in his heart, so he is جیسے انسان اپنے دل میں سوچتا ویسا ہی وہ ہوتا ہے You can, if you think, you can تم کر سکتے اگر تم سوچو کہ تم کر سکتے ہو خدا کا عاجز ہندہ اسکی تائید و نصرت سے اچھے خیالات کا انتخاب کرتا ہے ان کو وہ ہو تا اور انکی آبیاری کرتا ہے اگر کسی نے اسکو غیر ارادی طور پر دکھ دیا ہے تو وہ اسکو معاف کرنے کیلئے تیار رہتا ہے بلکہ ایسے شخص کے ساتھ وہ ہمدردانہ سلوک کرتا ہے وہ اپنے اندر عداوت کے خیالات کو جنم نہیں لینے دیتا اگر ایسے خیالات پیدا ہوں بھی تو وہ دعا اور مثبت خیالات کے ذریعہ ایسے خیالات کو دبا دیتا ہے اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر ایک شخص کا دوسرے کے ساتھ جھگڑا