گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 101 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 101

1+1 احمدیہ نے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر انہوں نے اپنے کسی دوست کو گلی میں شراب میں مخمور پایا تو وہ اسکو اٹھا کر اسکے گھر لے جانے میں ذرا تامل محسوس نہیں کریں گے بانی سلسلہ احمدیہ کے بہت سے دریدہ دہن دشمن تھے مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کیلئے آپ نے تین مرتبہ دعا نہ کی ہو خدا کا بندہ اپنے دل میں بہت دکھ محسوس کرتا ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ ایسے بد قسمت شخص کے لئے صمیم قلب سے دعا گو ہوتا ہے وہ اپنے نفس کی خامیوں اور کمزوریوں سے خوب آگاہ رہتا ہے کیونکہ اگر خدا کی تائید و نصرت اسکے ساتھ نہ ہوتی تو شاید وہ بھی ایسے گناہ گار شخص کی طرح گناہ گار ہو تا۔پھر اگر ایسے گناہ گار شخص نے اگر خدا کا نور ہدایت پا لیا ہوتا تو شاید وہ خدا کے عاجز ہندے سے نیکی اور زہد میں بہت آگے نکل گیا ہو تا۔خدا کا بندہ اگر اپنے آپ کو بڑے روحانی مرتبہ والا انسان سمجھنے لگتا ہے تو پھر وہ حقیقی معنوں میں خدا کا بندہ نہیں ہے کیونکہ خدا کا صحیح عاجز بندہ تو اپنے گناہوں اور کمزوریوں سے خوبی آگاہ ہو تا اور وہ انکساری و فروتنی کا مجسمہ ہوتا ہے اپنی کمزرویوں سے آگاہ ہو کر وہ خدا سے مغفرت اور اسکے رحم اور اسکی نصرت کا طلب گار ہو تا ہے وہ قرآن پاک کی اس نصیحت سے ہمیشہ آگاہ رہتا ہے فَلا تُرَكُوا أَنفُسَكُم هُوَ اعْلَمْ بِمَن اتَّقَى ( سورۃ ۵۳ آیت (۳۳) پس اپنی جانوں کو پاک مت قرار دو۔متقیوں کو اللہ ہی خوب جانتا ہے خدا کا بندہ اپنی کم مائیگی سے آگاہ رہتا ہے اور اسکا سارے کا سارا انحصار خدا کی نصرت اور اسکے فضل پر ہوتا ہے خدا نے اسے جو بھی روحانی ثمرات نوازے ہیں وہ ان کے لئے اسکا ممنون و مشکور ہوتا ہے وہ کسی سے نفرت نہیں کرتا اور دوسروں کیلئے خوش خلقی۔خوش گفتاری۔ملنساری اور نیک تحمل کا مرقع ہوتا ہے وہ تمام نوع انسانی کے لئے بھلائی کا طالب ہوتا ہے