گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 6 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 6

ہے جس کے بغیر خواہش کی قوت پوری رفتار سے عمل میں نہ آئیگی وہ ہے خواہش کی قوت یعنی۔force of desire۔اپنے مقصد میں کامیاب ہو نیکی پر جوش اور ولولہ انگیز خواہش کا موجود ہو نالازم ہے خواہش ہر ارادی کام یا حرکت کے پیچھے کار فرماز بر دست قوت Impulse ہے ماسوا اس کام کے جو تشدد یا جبر اور اکراہ یا خوف کی وجہ سے سر انجام دیا جائے اس شخص کی حالت پر غور فرمائیں جو پانی کی تلاش میں سرگرداں ہو اس کا یہ عمل پانی کی تلاش خواہش سے شروع ہوتا ہے یا ایک اور مثال میں ایک طالب علم ساری رات جاگتا ہے اور صبح نور کے تڑکے تک نصابی کتب کے مطالعہ میں غرق رہتا ہے۔وہ پڑہائی اس لئے کرتا ہے تاوہ امتحان میں کامیاب ہو جائے خواہش جس قدر تڑپ والی ہو گی اسی قدر اس کے نفس میں ترغیب زیادہ ہو گی۔تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری توجہ اس بات کی طرف مرکوز رہے کہ ہماری تڑپ والی خواہش تقوی کے لباس میں لپٹی رہے اگر خواہش شدید نہ ہو گی تو اس بنیادی قوت کی غیر موجودگی میں ہماری پیش قدمی رک جائیگی ہم سفر ختم نہیں کر سکیں گے ممکن ہے ہم جادہ سفر پر زیادہ دور تک بھی نہ جاسکیں گے بہت ممکن ہے کہ پہلے عمودی چٹان پر چڑھائی ہی ہمارے سفر کو ختم کر دے تو کہنے کا مدعا یہ ہے کہ ہر کامیابی کے پیچھے خواہش کی سب سے زبر دست قوت کار فرما ہوتی ہے آئیے ہم اپنی بیٹریوں کو اس قوت سے مزید چارج کر کے سفر پر روانہ ہوں عام حالات میں خواہش کے مختلف درجات ایک فرد کے فطری رجحان سے جنم لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خواہش کا احساس شدید تڑپ یا تمنا سے پیدا کیا جا سکتا ہے ؟ حضرت میرزا غلام احمد صاحب بانی جماعت احمدیہ نے ایک ایسے ہی سوال کہ کیا نماز میں مزہ پیدا کیا جاسکتا ہے جبکہ ذہن میں نماز کے لئے میلان کا فقدان ہو ؟ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ ہماری نماز میں رغبت پیدا ہو۔میرے نزدیک اسکا سب سے مجرب نسخہ یہ ہے کہ ہم خدا