گلدستہٴ خیال — Page 7
سے ملتیجی ہوں کہ وہ ہماری خواہش میں تڑپ اور ولولہ پیدا کرے وہ خدا ہمارا محبوب خدا ہماری اس التجا کو ضرور سنے گا کیونکہ جو اس سے محبت کرتے ہیں وہ انکو اپنا محبوب بنا لیتا ہے نیز وہ ایسے تمام لوگوں کی نصرت و تائید فرماتا ہے جو صبر اور خواہش کے ساتھ اسکی صفات اپنے اندر پیدا کرتے ہیں دلی اور تڑپ والی کچی دعا بے شک ایک بہت طاقتور ہتھیار ہے۔دعا کے دوران جن چیزوں کو ہم سائل بن کر خدا سے مانگتے ہیں وہ ہماری جھولی میں یوں ہی نہیں ڈال دی جاتیں ان میں سے بعض چیزوں کے پانیئے طریقے ہمیں دعا کے ذریعہ سمجھائے جاتے ہیں اور ان طریقوں پر عمل کر کے ہم وہ چیز حاصل کر کے دعا کی قبولیت کا نشان دیکھ لیتے ہیں اس بات کو سمجھنے کے لئے اس شخص کی مثال لیں جس بے چارے کے سر میں ہر وقت درد رہتا ہے اس نے بہت معالجوں سے علاج کرو لیا مگر بے سود۔بالاخر وہ سجدہ میں گرتا ہے اور رب العالمین خدا سے اس مرض سے شفامانگتا ہے اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور سر در در فع ہو جاتا ہے مگر یہ ایسا اس لئے نہیں ہوا کہ وہ کسی کے gentle touch یعنی کسی دلربا کے چھونے سے وہ شفایاب ہو گیا۔ہوا یہ کہ دعا کرنے کے بعد وہ اتفا قالا ئبریری گیا اس نے وہاں صحت کے اصولوں پر ایک کتاب دیکھی جسمیں یہ لکھا تھا کہ سر درد گندے خون کی وجہ سے ہوتا ہے اب وہ کتاب کا مزید مطالعہ شوق سے کرتا ہے اور اپنی غذا میں ضروری تبدیلیاں کرتا ہے دو ماہ بعد اسکا سر درد رفع ہو جاتا اور وہ خوش باش انسان نظر آتا ہے خدا نے اسکی دعا کو یوں قبولیت بخشی کہ اسکی توجہ اس کتاب کی طرف گئی اور یوں سر درد کا علاج اس کی سمجھ میں آگیا انسان اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خواہش کو اپنے ذہن میں کس طرح جنم دے سکتا ہے اس کے مندرجہ ذیل آزمودہ طریقوں پر عمل کریں۔۔۔۔۔اپنے ذہن میں اس روحانی حالت کا نقشہ کھینچیں جس کے حاصل کرنے کے ہم