گلدستہٴ خیال — Page 5
مگر آنیوالی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے حضرت علی کے مندرجہ ذیل قول پر غور فرمائیں عقل مند کا ہر کام اپنی اصلاح کے لئے ہوتا ہے اس کی تمام فکر میں آنے والی زندگی کیلئے ہوتی ہیں اور اس کی تمام سعی اور کوشش آنیوالی زندگی میں نیکی اور اچھائی کے لئے ہوتی ہے زندگی کا اس سے زیادہ اعلی مطمح نظر اس کے سوالور کیا ہو سکتا ہے کہ انسان نیکی وطہارت کو حاصل کرے ہمارا مطمح نظر ہر صورت میں پر فیکشن ہونا چاہیئے مذ ہب اسلام اس خوش آئند نوید کا اعلان کرتا ہے کہ جنت کی زندگی کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں جہاں گناہ کا زہریلا سانپ اس گھر کے مکینوں کو اپنے دانتوں میں جکڑ نہیں سکے گا اس روحانی حالت کا نام لقاء ہے اور لقاء صرف خدا کی منشاء اور ہماری کوشش سے حاصل ہوتی ہے اس مرحلہ پر پہنچنے تک ہم نے فیصلہ کر لیا ہو کہ ہم نے واقعی اپنے مطمح زندگی کو ہر صورت میں حاصل کرنا ہے اس تمنا کو پانے کی خواہش اس بات کا واشگاف اظہار ہے کہ اب ہم صحیح سمت میں چل پڑے ہیں ہمیں اس ضمن میں محدود ترقی پر مطمئن نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ہماری منزل مقصود وہ ہے جہاں سفر ختم ہوتا ہے آگے بڑھنے کیلئے آسانی سے سفر کرنے کے لئے نیز تیزی سے منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے چند قوانین زندگی پر عمل ضروری ہے کیونکہ یہ قوانین ہمارے لا ئحہ عمل کو استوار کرنے میں بہت ممد ثابت ہوں گے اس بات پر ہمار الیقین ٹھوس اور کامل ہونا چاہیئے کہ ہم اس مقصد حیات کو ضرور پالیں گے یہ یقین کامل ہو محض wishful thinkingنہ ہو یا امید کا ٹمٹماتا دیا نہ ہو دماغ میں شک اور ذہن غلط فہمی کا شکار نہ ہو اگر ہمارے ذہن میں یہ کامل یقین اور اعتماد نہ ہو گا تو فطرت کا ایک ضروری اصول عمل میں نہ آئیگا اور وہ اصول ہے چاہت کا اصول۔ایک اور اصول جس کا عمل پذیر ہونالازمی