گلدستہ — Page 67
46 کہ ایسے کاموں پر خرچ کروں گا جس سے خدا نوش ہو۔آپ تجارت میں رقم لگاتے تو سمجھتے خدا کی رقم تجارت میں لگائی ہے۔اور جب نفع ہوتا تو سمجھتے خدا کی رقم پر نفع ہوا ہے۔وہ سب خدا کے راستے میں ایسے کاموں پر خرچ کر دیتے جس سے خدا خوش ہو۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مسلمانوں کی مسجد جو مسجد نبوی کہلاتی ہے۔تنگ لگنے لگی۔نمازی زیادہ آتے تھے۔جگہ کم ہو گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کر رہے تھے کہ مسجد کے ساتھ کچھ زمین خالی پڑی ہے۔اگر کوئی شخص اس کو خرید کر مسجد کے لئے دیدے تو مسجد بڑی کی جاسکتی ہے۔حضرت عثمان نے وہ جگہ خرید کر مسجد کو بڑا کرنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دے دی۔کھلا خرچ کرنے والے کو غنی کہتے ہیں۔اسی لئے آپ کا نام عثمان غنی مشہور ہوا۔مدینہ میں رہتے ہوئے دو ہی سال ہوئے تھے کہ مسلمانوں کو ایک جنگ لڑنا پڑی۔ان دنوں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت رقیہ جو حضرت عثمان کی بیوی تھیں سخت بیمار تھیں۔استحصور نے حضرت عثمان کو اجازت دے دی کہ آپ حضرت رقیہؓ کا خیال رکھیں۔اور جنگ پر ہمارے ساتھ نہ جائیں۔ابھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے واپس نہیں آئے تھے کہ حضرت رقیہ فوت ہو گئیں۔حضرت عثمان بہت غمگین ہو گئے۔حضرت رقیہ بہت اچھی تھیں۔اچھا ساتھی فوت ہو جائے تو غم تو ہوتا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عثمان کا یہ نظم نہ دیکھا گیا۔آپ نے اپنی دوسری بیٹی ام کلثوم کی شادی حضرت عثمان سے کر دی۔اس طرح آپ کا علم کم ہو گیا اور خوشی زیادہ ہوگئی۔کیونکہ انہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیٹی مل گئی۔اور یہ بڑی عزت کی بات تھی۔ہجرت کو چھ سال ہو گئے تھے۔ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ وہ مکہ