گلدستہ

by Other Authors

Page 68 of 127

گلدستہ — Page 68

گئے ہیں۔مکہ تو سب کو یاد آتا تھا۔چنانچہ آپ اپنے ساتھ تقریباً ایک ہزار صحابیہ کو لے کر مکہ گئے۔مگر کافروں نے آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا۔آپ لڑنے کے لئے تو گئے نہ تھے۔سوچا کہ والوں کو بتاتے ہیں کہ ہم لڑنے کے ارادے سے نہیں آئے۔صرف پیارے کعبہ کا طواف کریں گے۔آپؐ نے اپنی بات مکہ والوں کو تانے کے لئے حضرت علی کو چنا۔حضرت عمر نے کہا آپ کا حکم ماننے کو تیار ہوں۔مگر حضرت عثمان زیادہ اچھی طرح بات کر سکتے ہیں۔ان کو بھیجا جائے۔چنانچہ حضرت عثمان کو بھیجا گیا۔حضرت عثمان کے مکہ میں بہت سارے رشتہ دار تھے۔کہنے گئے تم چاہو تو طواف کر لو۔مگر ہم محمد کو نہیں آنے دیں گے۔مگر حضرت عثمان نے جواب دیا یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے پیارے آقا کے بغیر طواف کر لیں۔مکہ والوں نے غصہ میں آکر آپ کو گرفتار کر لیا۔رات ہو گئی حضرت عثمان واپس نہ آئے تو فکر ہوئی۔کسی نے مشہور کر دیا کہ انہیں مار دیا گیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سُن کو بہت غمگین ہوئے اور ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ کر صحابہ سے وعدہ لیا کہ ہم عثمان کا بدلہ ضرور لیں گے۔اُسی وقت اللہ تعالٰے نے اپنے فرشتہ کو بھیجا جس نے اگر اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام دیا کہ اللہ ان وعدہ کرنے والوں سے خوش ہوا۔کافروں کو پتہ چلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدلہ ضرور لیں گے۔تو گھبرا کر حضرت عثمان کو چھوڑ دیا۔اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کرلی۔حضرت عثمان حب خدا کو خوش کرنے کے لئے خرچ کرتے۔تو بہت زیادہ خرچ کرتے۔ایک جنگ ہوئی تھی۔جسے غزوہ تبوک کہتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کے پاس جنگ کا سامان بہت کم تھا۔حضرت عثمان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور تیرہ ہزار سے زیادہ سپاہیوں کا پورا خرچ پیش کیا پھر سوچا یہ بھی کم نہ ہو ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے اور پیش کر دیئے اور ایک ہزار دنیار - دینار اس علاقے