گلدستہ — Page 66
44 نہ ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے مسلمانوں کے ساتھ۔مدینہ ہجرت کا فیصلہ فرمایا۔اس طرح حضرت عثمان۔ایک دفعہ پھر اپنا سب کچھ چھوڑ کر مدینہ آگئے۔مدینہ میں اتنی تکلیفیں تو نہ تھیں۔جتنی مکہ میں تھیں۔مگر یہاں بھی بعض قبیلے شرارتیں کرتے رہے۔اُن دنوں پانی کنویں سے حاصل ہوتا تھا۔سارے مدینے دالوں کے لئے پینے کے پانی کا ایک ہی کنواں تھا۔اور یہ کنواں ایک یہودی کا تھا۔یہودی کو پتہ تھا کہ سب یہیں سے پانی لیں گے اس لئے دو بہت پیسے لے کر پانی دیتا۔امیر لوگوں کو تو کوئی مشکل نہ ہوتی۔وہ تو خرید لیتے۔مگر غریب لوگ سجائے پینے کا پانی کیسے خرید سکتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں سے بہت محبت کرتے تھے۔آپ نے یہ تکلیف دیکھی تو ایک دن فرمایا۔اگر کوئی مسلمان اس کنویں کو یہودی سے خرید لے اور اپنے مسلمان بھائیوں کو اس میں سے پانی لینے دے، تو میں اُس کے لئے جنت کی خوشخبری دیتا ہوں حضرت عثمان یہ سن کر اُٹھے اور کنویں کے مالک یہودی کے پاس گئے۔اور بولے تم یہ کنواں کتنے میں فروخت کرو گے۔یہودی نے سوچا یہ مسلمان ہجرت کر کے آئے ہیں۔پھیلا کنواں کہاں خرید سکتے ہیں۔اُس نے بہت زیادہ قیمت نیا دی حضرت عثمان نے وہ قیمت اُسی وقت ادا کر کے اعلان کروا دیا کہ مسلمان اس میں سے بغیر کوئی پیسہ دیئے جتنا چاہیں پانی استعمال کر سکتے ہیں۔ایک دفعہ سخت قحط پڑا قحط کا مطلب ہوتا ہے۔کھانے پینے کی چیزیں بالکل ختم ہو جانا۔آپنے کے گندم سے لدے ہوئے اُونٹ آئے تو اس پر دس گنا منافع مل سکتا تھا۔مگر آپ نے سب اتاج خدا کو خوش کرنے کے لئے سفریوں میں بانٹ دیا۔ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ حضرت عثمان تجارت کرتے تھے۔جب مسلمان ہو گئے تو آپ نے سمجھ لیا کہ میرا سب کچھ اب میرے خدا کا ہے۔خدا تعالیٰ کا ہونے سے یہ مطلب ہوتا ہے