گلدستہ — Page 108
I۔A اللہ کی آیات پڑھتا ہے۔شریعت کے بارے میں سبھی نازل ہونا آتا ہے۔مثلا قرآن پاک کے لئے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ اور ناہم نے ہی اس ذکر کو اتارا ہے۔اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ہر ان تمام مثالوں سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ نازل کرنا۔نزول کا لفظ سے اترے گی۔فائدہ مند چیز کے لئے آتا ہے۔اس سے یہ مراد نہیں ہوتی ہے کہ وہ آسمان بچہ : جزاکم اللہ میں نازل اور نزول کو بھی سمجھ گیا۔لیکن ابن مریم سے کیا مراد ؟ ہاں :۔اگر آپ کسی کو بہت زیادہ سخاوت کرتا دیکھیں تو کہتے ہیں کہ فلاں تو حاتم طائی ہے۔یا فلاں تو چاند ہے۔خوبصورت کو چاند کہہ دیتے ہیں ، نیک سیرت کو فرشتہ، بہادر کو شیر کہہ دیتے ہیں۔ان سے ان کی صفات جیسا ہونا مراد ہوتا ہے۔آنے والے کو سیچ کہا گیا۔اس سے مراد اس کی سچائی تھی یعنی وہ روحانی بیماریوں سے نجات دیگا۔ابن مریم کہا اس سے مراد حضرت عیسی کی طرح جو موسیٰ کے بعد چودہ سو سال بعد آتے تھے اسی طرح حضرت مرزا غلام احمد قادیانی (آپ پر سلامتی ہو) نے بھی قرآن پاک۔اسلام کی تعلیم کو زندہ کرنا تھا۔جس طرح حضرت عیسی نے بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کو عیسائیت کی تعلیم کے ذریعہ اتفاق و اتحاد کے ساتھ جمع کر دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود (آپ پر سلامتی ہوا نے بھی تمام فرقوں کو احمدیت کے ذریعہ ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دینا تھا۔اور سب سے بڑھ کر اس زمانہ میں جو فتنہ دجال کا اور یا جوج ماجوج کا پھیلنا تھا جس کے پھیلانے کا سبب بھی یہ عیسائی اقوام تھیں۔اس لئے اس سے نجات دلاتا بھی مسیح ابن مریم کا کام تھا۔جو حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے