مرزا غلام قادر احمد — Page 46
46 کامیاب رہی۔شدید جسمانی اذیت پہنچی ہے مگر بالکل پرواہ نہیں کی۔آخر دم تک ان سے لڑتا رہا اور اغواء کا منصوبہ ناکام کر دیا اور سڑک پر باہر نکل کر ان کی گولیوں کا نشانہ بننا قبول کر لیا۔اس شہادت کا یہ پہلو ایسا ہے جو میں سمجھتا ھوں کہ قیامت تک شہید کے خون کا ھر قطره آسمانِ احمدیت پر ستاروں کی طرح جگمگاتا رھے گا۔مجھے اس بچے سے بہت محبت تھی۔میں اس کی خوبیوں پر گہری نظر رکھتا تھا۔میں جانتا تھا کہ کیا چیز ہے اس وجہ سے میں بہت ہی پیار کرتا تھا۔گویا یہ میری آنکھوں کا بھی تارا تھا۔مجھے صرف ایک حسرت ہے کہ کاش کبھی لفظوں میں اس کو بتا دیا ہوتا کہ قادر تم مجھے کتنے پیارے ہو۔کبھی آج تک ناز اور غم کے جذبات نے مل کر میرے دل پر ایسی یلغار نہیں کی۔ناز بھی ہے اور غم بھی ہے۔ان دونوں جذبات نے مل کر کبھی دل پر ایسی یلغار نہیں کی جیسے قادر شہید کی شہادت نے کی ہے۔اِنَّمَا أَشْكُوا بَنِي وَحُزَنِی إِلَى الله - خدا کے حضور آنسو بہانا منع نہیں ہے۔کوشش یہی ہونی چاہئے کہ دُنیا کے سامنے یہ آنسو نہ ہیں ، صرف اللہ کے حضور ہیں۔مگر بے اختیاری میں نکل بھی جاتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کو قبر میں دفناتے ہوئے اگر چہ بے انتہا صبر کا مظاہرہ کیا مگر آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ایک بد نصیب نے کہا یا رسول اللہ! آپ کی آنکھ میں آنسو! کیا دیکھ رہا ہوں۔آپ نے فرمایا خدا نے مجھے شقی القلب نہیں بنایا۔اگر تم بد نصیب ہو تو میرے پاس اس کا کوئی علاج نہیں۔میرا دل سخت نہیں ہے۔میرے دل کے خون کے قطرے میرے آنسو بن کر بہہ جاتے ہیں مگر یہ ایک بے اختیاری