مرزا غلام قادر احمد — Page 451
451 پڑھ رہے تھے۔جونہی پولیس پہنچی تو ملزمان نے قریبی مسجد میں پوزیشنیں سنبھال کر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔پولیس نے مسجد کے چاروں طرف سے انہیں گھیر لیا اور تقریباً 5 گھنٹے تک زبر دست فائرنگ کا مقابلہ ہوا۔جس کے نتیجہ میں پولیس نے گھیرا تنگ کر کے چاروں ملزمان کو موقع پر ہی ڈھیر کر دیا۔دہشت گردوں نے اپنے تمام شناختی کاغذات پہلے ہی جلا کر راکھ کر دیے۔پولیس نے ایک راکٹ لانچر اور دیگر بھاری اسلحہ قبضے میں لے لیا۔یہ تمام وقوعہ الیس الیس يي جھنگ اسلم ترین کی موجودگی میں اور ان کی معیت میں ہوا۔تاہم ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے ایک کا نام اعجاز عرف بجی اور دوسرے کا نام تنویر عرف تنی بتایا گیا ہے جبکہ باقی کی شناخت نہیں ہوسکی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حکومت نے ان کے سر کی قیمت دس لاکھ سے ہیں لاکھ روپے لگائی ہوئی تھی۔ایس ایس پی، ڈی آئی جی چنیوٹ موقع پر پہنچ گئے۔جبکہ راہ گیروں میں سے غلام قادر چناب نگر کا رہنے والا تھا اور ڈاکٹر مبشر کا قریبی رشتہ دار تھا۔واضح رہے کہ تنویر عرف تنی اور اعجاز عرف جی کی گرفتاری کے لئے حکومت بار بار اشتہار شائع کرواتی رہی ہے۔تنویر تنی کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے جبکہ اعجاز جی کے سر پر ہیں لاکھ روپے انعام رکھا گیا تھا۔چناب نگر نامہ نگار کے مطابق دہشت گردوں نے غلام قادر کو اس وقت اغوا کیا جب وہ احمد نگر میں اپنی اراضی سے لوٹ رہے تھے۔چناب کے پل پر انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی۔جس پر مارے گئے۔فائرنگ سے کانڈیوال کی اسکول ٹیچر نسرین اختر بھی گردن میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئی۔مقتول غلام قادر حال ہی میں امریکہ سے ایم الیس کمپیوٹر سائنس کر کے لوٹے تھے۔اور قادیانی جماعت کے شعبہ کمپیوٹر کے انچارج تھے ان کے اغوا اور قتل کی خبر ملنے پر چناب نگر میں کہرام مچ گیا۔