مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 36 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 36

36 ان کو مردے نہ کہو بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لَا تَشْعُرُونَ بلکہ وہ تو زندہ ہیں حقیقت یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں وَلكِن لا تَشْعُرُونَ مگر تم کوئی شعور نہیں رکھتے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ اور میں تمہاری ضرور آزمائش کروں گا، کچھ خوف کے ساتھ۔وَالْجُوعِ اور بھوک کے ساتھ۔وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالَا نُفُسِ وَالثَّمَرَاتِ اور مالوں اور جانوں کے ضیاع کے ساتھ۔وَالثَّمَرَاتِ اور اسی طرح پھلوں کے نقصان کے ساتھ، وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ اور صبر کرنے والوں کو بشارت دے دے۔الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ یعنی وہ لوگ جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ کہتے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔اُولِیكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ یہی وہ لوگ ہیں جن پر بہت ہی برکات ہیں اپنے رب کی طرف سے وَ رَحْمَةٌ اور اس کی رحمت بھی ہے۔وَاُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔ر اس آیت کے تعلق میں میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک جامع اور مانع حدیث جو بخاری سے لی گئی ہے پڑھ کر سناتا ہوں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔( بخاری کتاب المظالم من قتل دون ماله ) اس حدیث میں تمام شہادتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں جو حال ہی میں