مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 37 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 37

37 ہمارے شہید ہونے والے عزیزم غلام قادر کو سب نصیب ہوئیں کیونکہ ان کے اندر شہادت کی وجوہات میں سب اکٹھی ہو گئی ہیں۔اور بھی بہت چیزیں اکٹھی ہوئی ہیں جن کا میں تفصیل سے ذکر کروں گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں وہ چند دنوں بعد پھر زندہ کیے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَا تَا بَلْ أَحْيَاء یعنی تم ان کو مُردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندہ ہیں۔“ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 57) یہ خدا کی راہ میں جب زندہ کئے جاتے ہیں تو ان کو پھر دوبارہ اس دنیا میں واپس آنے کی تمنا ہوتی ہے جبکہ اور کسی کو جو خدا کے ہاں قُرب کا مقام پا جائے جنت سے واپس آنے کا خیال تک نہیں آتا۔اس کی وجہ کیا ہے کہ ان شہداء کا معاملہ اور ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک حدیث کے حوالے سے یہ ذکر فرماتے ہیں۔وہ حدیث ترمذی کتاب الجہاد سے لی گئی ہے، اس کا ایک ٹکڑا میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں۔" کوئی بندہ بھی جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور خیر مقدر ہو فوت ہونے کے بعد دوبارہ دنیا میں آنا پسند نہیں کرتا خواہ دنیا و مافیہا بھی اس کے لئے مقدر ہو۔“ ساری دنیا کی بادشاہت جو کچھ اس میں ہے اس کے مال و دولت سب کا وعدہ ہو کہ سب تجھے دیئے جائیں گے پھر بھی وہ نہیں آئے گا ” سوائے شہید کے شہید دوبارہ آنا چاہتا ہے۔” شہادت کی فضیلت کی وجہ سے یہ ایسا کرتا ہے۔یہ حدیث میں جس فضیلت کا ذکر ہے اس سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اور یہی مضمون دوسری احادیث میں مزید وضاحت کے 66