مرزا غلام قادر احمد — Page 265
265 خاکسار کو اس تحریر کے دوران تذکرہ میں اکیس اکیس والا ایک الہام نظر آیا۔ہوسکتا ہے کوئی تعلق ہو اس لئے لکھ رہی ہوں۔تذکرے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے نومبر 1905ء کا ایک خواب درج ہے۔اُس میں بھی اکیس اکیس، آتا ہے۔آپ کو اکیس سال دعوی کے بعد تبلیغ کی عمر ملی۔پھر حضرت مصلح موعود کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی قسم کا انکشاف ہوا اس انکشاف کے اکیس سال بعد آپ کی وفات ہوئی 23 اپریل 1944ء کو آپ نے فرمایا! آج میں نے ویسا ہی ایک رؤیا دیکھا ہے۔جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رؤیا ہے۔مگر یہ ساری رؤیا تو نہیں مگر آج رات ایک لمبے عرصے تک یہی رویا ذہن میں آکر بار بار یہ الفاظ جاری ہوتے رہے۔اکیس اکیس۔الفضل جلد 32 نمبر 99، 29 اپریل 1944ء) 1944ء سے ٹھیک اکیس سال بعد آپ کا وصال ہوا اور لفظاً لفظاً خدا تعالی کی بات پوری ہوئی۔( تذکرہ صفحہ نمبر 578 پرانا ایڈیشن) آپا قدسیہ نے ملاقات کے لئے آنے والی خواتین کی بعض ایمان افروز باتیں بتائیں۔مکرمہ زبیدہ نیم بیدی صاحبہ نے بتایا کہ انہیں یاد ہے ایک دفعہ ننھے قادر کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد کے پاس لائیں آپ نے بچے کو گود میں لے کر فرمایا ماشاء اللہ بہت پیارا بچہ ہے اس کی پیشانی کشادہ اور نورانی ہے۔یہ ایک دن بہت بڑا انسان بنے گا۔آپ نے بچے کو بہت دعائیں دیں۔آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔محترمہ نسیم لطیف صاحبہ بنت ڈاکٹر عبداللطیف صاحب کو قادر کی شہادت سے پہلے رات کو آواز آئی وہ خدا کے عطر سے ممسوح کیا گیا۔