مرزا غلام قادر احمد — Page 264
264 آپ کی زندگی کی بہترین خواہش کیا ہے؟ " ہر شخص کی کوئی بہترین خواہش ، کوئی بہترین مقصدِ حیات ہوتا ہے۔میرا مقصد حیات میری بہترین خواہش میرا واقف زندگی بچہ تھا۔مامتا اپنی جگہ وہ تو ہر ماں کو ہوتی ہے۔مگر وہ ہر روز خوشی دیتا تھا۔میرا مان بڑھاتا تھا۔میرے خوابوں کی تعبیر تھا۔۔۔میری قبولیت دعا کا نشان تھا۔وجہ تسکین تھا۔سوچتی ہوں اس درد کا مداوا کوئی ہے۔نہیں کوئی نہیں ہے بجز میر پیارے خدا کے اور کوئی چارہ گر نظر نہیں آتا“۔خاکسار کو آپ کا ایک خواب یاد آ رہا تھا جس کا اشارہ ذکرسُن رکھا تھا وضاحت کے لئے پوچھا۔آپ نے اکیس اکیس والے خواب کا ذکر کیا تھا اُس کی بھی کچھ تفصیل بتا دیجئے ؟ میں چاہتی تھی وہ زیادہ سے زیادہ بولیں۔محترمہ قدسیہ بیگم صاحبہ نے جواب دیا۔" غالباً 1946ء میں ایک خواب دیکھا تھا کہ بڑی امی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ایک میز کے آگے کرسی لگا کر بیٹھی ہیں سامنے قرآنِ کریم کھلا ہے اور میں پاس کھڑی ہوں میرے کسی خواب کی تعبیر قرآن کریم سے دیکھ رہی ہیں غور کرتے ہوئے دو مرتبہ اکیس اکیس کہا اور بہت گھبرا ئیں اس کے بعد مطمئن ہو گئیں اور بڑی بشاشت سے کہا! بڑی خوش قسمت، بڑی خوش قسمت مجھے لگتا ہے یہ خواب بھی قادر کے لئے تھا ان دنوں میں اپنی اولاد کے لئے بہت دُعائیں کرتی تھی قادر کا غم بھی ہے اور خوش قسمتی بھی۔دو اکیس (21) جمع ہو گئے قادر کی پیدائش کی تاریخ اور وقف کے وقت اُس کی عمر۔یہ ایک ذوقی استدلال ہے اللہ تعالیٰ ہی علام الغیوب ہے وہی جانتا ہے اُس کے اشاروں میں کیا بھید ہیں۔