مرزا غلام قادر احمد — Page 229
229 سے دیکھتا ہے۔جہاں بے شمار دوستوں کی طرف سے تعزیت کے خطوط اور جماعتوں کی طرف سے قرار دیں موصول ہوئیں ان میں سے ایک غیر از جماعت دوست جو قادر کے ایبٹ آباد اسکول میں اس کے ہاؤس ماسٹر تھے ان کے خط سے اور ایک جماعت کی قرار داد جس نے مجھے بہت متاثر کیا کچھ حصے دوستوں کے لئے پیش خدمت ہیں۔بشارت صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں :- ” جب میں ہاؤس ماسٹر بنا تو محمود تو کالج میں تھا مگر غلام قادر ساتویں میں میرے پاس آیا اور مجھے اس کی تربیت پر فخر ہے کہ وہ اپنی قابلیت سے کالج کا Senior Prefect بنا اور پھر بورڈ میں صوبہ بھر میں اول آیا۔سات سال تک میرا اس کا قلبی تعلق رہا پھر عملی زندگی میں بہت کامیاب رہا۔اپنی فیملی کے وو ساتھ دو مرتبہ Old Boys Reunion میں شرکت بھی کی۔ڈھیروں باتیں ہوئیں۔اس نے فخر سے بتایا کہ وہ جماعت کا کام کر رہا ہے۔بلکہ اس نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔مجھے غلام قادر کتنا عزیز تھا وہ خود بتا سکتا اور جانتا تھا یا میں اور میرا دل ہی جانتا تھا یا ہے۔اس کے انمٹ نقوش میرے دل پر بڑے گہرے ہیں اور جب تک حیات مستعار ہے اس صدمہ کو نہیں بھلا سکتا۔“ ایک تعزیتی قرار داد میں لکھا ہے ” مرزا غلام قادر پائندہ باد۔خدائی بشارتوں کے تحت وہ اپنے وقت پر آیا اور اپنی قلیل عمر میں عظیم کاموں کی بنیاد ڈال کر عظیم الشان سُرخروئی کے ساتھ اپنے آقا کے پاس واپس چلا گیا۔اپنے کردار، اپنی شخصیت، اپنی خدمات اور شجاعت کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔که نونهالان جماعت کے لئے تا قیامت مشعلِ راہ ہوں گے۔وہ جدید ترین د نیوی علوم کا ماہر، خدا اور اس کے دین کی چوکھٹ پر سب کچھ نثار کر گیا۔وہ