مرزا غلام قادر احمد — Page 230
230 اپنے خون سے دشمنوں کو وہ زک پہنچا گیا کہ چشم دجل حیران ہے اور دعویٰ دارانِ وفا و محبت کی آنکھ جب بھی اس کی قر بانی پر نظر کرے گی خیرہ ہو گی۔مبارک وہ آہیں اور وہ آنسو کہ انتہائے صبر و رضا، تشکر و امتنان، محبت اور فطری غم سے جن کی ترکیب ہوئی۔وہ خدا کا تھا، عشق اور مہر و وفا ، خدا کی اور اس کے دین کی پکار پر شار۔دشمن کی یلغار کے مقابل پر تنہا ایک کوہ گراں۔سربلند اور سُر خرو و جاں نثاروں کے گروہ کا ایک سرخیل، جنت نشان، جنت مقام“۔اے غلام قادر تجھ پر سلام ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی تیری قر بانی اور تیری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گی۔مؤرخ احمدیت کا قلم تیرے بیان پر ناز کرے گا۔خدا تیرے چاہنے والوں کو اپنی کروڑوں رحمتوں اور برکتوں کی بارش سے نہال کر دے اور تیری نسل سے وہ گوہر تابدار پیدا ہوں جو تیری وارثت کا حق ادا کریں اور خدا تعالیٰ احمدیت کو تیری صلب سے نعم البدل عطا فرمائے۔(آمین) (روزنامہ الفضل 3 جولائی 1999ء) اس کے لئے بھی دوستو کوئی دعائے صبر جس دل شکستہ شخص کا نور نظر گیا