مرزا غلام قادر احمد — Page 228
228 حفاظت کی اور آخر میں اسی کی راہ میں اسے بہا کر اس کا حق ادا کر دیا۔تجھ پر تیرے پڑدادا اور تیرے دادا خوش ہوئے۔تو نے خلیفہ وقت سے تحسین کے کلمے سنے اور اپنے کمزور اور عاصی والدین کے لئے باعث افتخار بنا۔تجھ پر ہزاروں سلام ہوں اور اللہ تعالیٰ تجھ پر اپنی نعمتیں نازل فرماتا چلا جائے تیری اولاد سے دین کے سچے خادم اور مخلوق خدا کے حق میں رحمت بننے والے وجود پیدا ہوں۔یہ دُعا صرف قادر کے حق میں نہیں بلکہ تمام جاں شارانِ احمدیت کے حق میں ہے جن کے نام حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے دوبارہ روشن فرما دیے ہیں اور احباب جماعت کو یاد دلایا کہ دیکھو تمہاری تاریخ کیسے کیسے لوگوں کے خون سے تحریر شدہ ہے جس پر تم بجا فخر کر سکتے ہو۔جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے حضور زندہ ہیں۔اسی طرح انہیں اپنے دلوں اور دُعاؤں میں زندہ رکھو کہ قومیں اپنے جاں شاروں سے ہی زندہ رہتی ہیں۔میری بیوی نے قادر کی قربانی پر جس طرح صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا۔اور قادر کو رخصت کیا وہ ازحد قابل تحسین ہے۔آفرین ہے اس ماں پر جس نے اپنے لخت جگر کو آخری بار رُخصت کرتے ہوئے پکار کر کہا ” قادر جزاک اللہ مائیں ماتم کرتی ہیں اور کون سی ایسی ماں ہوگی جس کے صبر کے بندھن ایسے حالات میں ٹوٹ نہ جاتے ہوں لیکن دھن ہے ایسی ماں پر جو اپنے نور نظر کی لغش اُٹھتے وقت اس کا شکریہ ادا کر رہی ہو۔اس پر کیا زائد کر سکتا ہوں ماں ماں ہی ہوتی ہے۔اس کی محبت کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔میری بیگم کے مضمون کو پڑھ کر دو عورتیں اس شدید گرمی میں چند دن ہوئے ملتان سے سفر کی کوفت برداشت کرتے ہوئے تعزیت کے لئے آئیں۔اور کہا کہ وہ خاص طور پر اس ماں کے دیدار کو آئی ہیں۔جس نے اس طرح اپنے جگر گوشے کو اس قربانی پر رخصت کیا۔کہ کوئی پڑھنے والا اپنے آنسو نہ روک سکا۔اور انہیں رشک کی نظر