مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 227 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 227

227 سے آزمائے جاؤ گے تا کہ ہم دیکھیں تم میں سے کون امتحانوں میں سے سر خرو ہو کر نکلتا ہے ورنہ زبانی محبت جتانے والے تو ایک اینٹ اُٹھا ئیں تو ہزار نکلتے ہیں۔اس میدان میں جب نظر اُٹھا کر دیکھتا ہوں تو حضرت صاحبزادہ عبداللطیف کی 1903ء میں قربانی کے بعد بڑے بڑے عظیم الشان روشن میناروں سے شاہراہ قربانی منور نظر آتی ہے۔نوحہ کرنا ہو تو کس کس پر نوحہ کریں۔میں کیوں صرف قادر کی قربانی کا ہی تذکرہ کروں دوسرے بھی تو کسی کے باپ، کسی کے بیٹے اور کسی کے بیوی بچے تھے۔انہیں بھی ان سے اسی طرح محبت ہوگی جس طرح ہمیں قادر عزیز تھا۔میں اگر قادر کی ہی قربانی کے غم کی داستان بیان کروں تو پھر یہ انصاف نہ ہو گا۔انسان کس کس کا غم کرے۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ انسان تو اس دنیا میں آتا ہی مرنے کے لئے ہے۔اس سے تو کسی کو فرار نہیں۔مومن بھی مرتا ہے اور کافر بھی ، انبیا بھی اپنی قوم کو روتا اور سکتہ کی حالت میں چھوڑ کر رفیق اعلیٰ سے جاملتے ہیں دیکھنا تو یہ ہوتا ہے کہ کسی نے زندگی کیسے گزاری اور موت نے اسے کس طرح آغوش میں لے لیا یا موت نے اسے کس طرح اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔قادر کے خون کا رنگ دوسرے جاں نثاروں کے رنگ سے مختلف نہ تھا اگر فرق تھا تو یہ کہ اس کی رگوں میں مسیح موعود علیہ السلام کا لہو دوڑ رہا تھا اس لہو کی اپنی ہی قیمت ہے۔حضرت بانی سلسلہ کے صلب سے جہاں اولوالعزم خلفاء پیدا ہوئے۔جن میں سے ایک کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نور آتا ہے نور وہاں ایک ٹھنڈی چھاؤں والا قمر بھی تھا۔یہ لوگ اولیاء اللہ ہیں اور اے غلام قادر تو نے راہ حق میں اپنا خون بہا کر ان میں ایک راہِ مولا میں قُربانی دینے والے کا بھی اضافہ کر دیا۔جب تک تو زندہ رہا تو نے اس خون کی حرمت کو پہچانا اور اس کی