مرزا غلام قادر احمد — Page 226
226 محترم صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب (والد صاحبزادہ ): {اک نفسِ مطمئن لئے اپنے لہو میں تر۔قادر کا وہ غلام تھا قادر کے گھر گیا} غلام قادر نے اپنے خون کی حرمت کو پہچانا اور اس کا حق ادا کر دیا عزیزم غلام قادر کی شہادت پر کئی دوستوں نے بڑے ہی عمدہ اور بعض بڑے نکتہ رس انداز میں اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کیا ہے۔مجھ سے بھی کئی احباب نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں بھی کچھ لکھوں۔لیکن میں کیا لکھوں اور کیا کہوں۔گھاؤ بہت گہرا ہے۔اور اس کی کسک اور بھی زیادہ گہری۔بعض دفعہ تو میں ان خنجروں کے وار جو ان ظالموں نے اس معصوم پر چلائے اپنی پشت پر محسوس کرتا ہوں تو رات کی تنہائیوں میں میرا تکیہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا لیکن پھر انا للہ کی آیت آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتی ہے کہ نہ تو اس کا خالق تھا نہ مالک اور نہ ہی رازق۔وہ تو ہماری طرف سے تجھے عنایت تھی۔ہم نے جب چاہا جیسے چاہا۔اسے اپنے پاس واپس بلالیا۔لیکن تو یہ کیوں نہیں دیکھتا کہ موت تو ہر ایک کو آنی ہے۔کوئی آج چلا گیا، تو کوئی کل۔اس سے تو کسی کو بھی مفر نہیں لیکن دیکھ ہم نے اسے کیسی شان سے اپنے پاس بلایا ہے۔صبر کرنا ، تمہارا مقام ہے اور صبر کرنے والوں پر ہی عنایات کے دروازے کھلتے ہیں ٹھیک ہے اولاد کی محبت ہم نے انسان کے خمیر میں رکھی ہے مگر ہم نے تو پہلے سے لوگوں کو بتا دیا ہوا ہے کہ تم اولاد اور اموال کے ضائع ہونے