غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 78
78 ہے جو بعض دفعہ غیر محسوس طریق پر اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اس سے سب کو بچائے۔بہر حال جس طرح فرمایا ہے کہ استغفار کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور اللہ تعالی ہماری بخشش کے سامان پیدا فرمائے اور ہماری توبہ قبول فرمائے۔آمین ( خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 2003 ء بیت الفتوح لندن ) (روزنامه الفضل 13 را پریل 2004ء) پس تعلیم یہی ہے کہ کسی کی خطا دیکھو تو اگر با اختیار ہو تو عفو سے کام لو اور در گذر کرو اور اگر بے اختیار ہو اور کسی کی خامی دیکھو تو پردہ پوشی اورستاری کا شیوہ اختیار کرو۔اسی سے معاشرہ جنت نظیر بنتا ہے۔اسی سے رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کی بنیاد پڑتی ہے اور یہی وہ راز ہے جسے پالینے کے نتیجے میں بُنْيَانٌ مَرْصُوصَ قیام پذیر ہوتی ہے۔میں صرف یہی عرض کرتی ہوں کہ خدارا اپنی سوچوں کو پانی کے قطروں کی طرح صاف شفاف رکھئے۔جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے۔اسی طرح سوچوں سے ایمان بنتا ہے۔خدا سے قربت چاہتے ہو تو اُس کے بندوں کے قریب ہو جاؤ۔ہمارے زندہ رہنے کا فائدہ ہی کیا ہے جب ہم ایک دوسرے کے حالات کی تلخی کم نہ کر سکیں۔غیبت اور چغل خوری سے معاشرے میں فساد پیدا ہوتا ہے۔تخلیق انسانی خالق کی کاریگری ہے۔ہر نفس میں اس نے اپنی صفات رکھی ہیں جو ان صفات کو سنوار نے نکھارنے اور نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنی خوشبو اور نیک تاثیر سے ماحول کو خوشگوار اور معطر رکھتے ہیں۔