غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 77 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 77

77 ہے۔دوزخ اور بہشت میں بھیجنے والا تو میں ہی ہوں۔تو کون ہے؟ تو جس نے نکتہ چینی کی تھی اور اپنے آپ کو نیک سمجھا تھا اس شخص کو کہا کہ ” جامیں نے تجھے دوزخ میں ڈالا اور یہ گنہگار بندہ جس کا تو گلہ کیا کرتا تھا۔کہ یہ ایسا ہے ویسا ہے اور دوزخ میں جائے گا۔اس کو میں نے بہشت میں بھیج دیا۔جنت میں بھیج دیا تو فرماتے ہیں کہ ہر ایک انسان کو سمجھنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ میں ہی اُلٹا شکار ہو جاؤں۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحه 10-11 مطبوعہ ربوہ) آج بھی لوگ ایسی باتیں کر جاتے ہیں کہ فلاں شخص تو بڑا گندہ ہے، گنہ گار ہے، جہنمی ہے، پھر بعض اپنی بزرگی جتانے کے لئے اس قسم کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ پہلے تو گرید گرید کر کسی کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ فلاں نیکی تم نے کی ،نماز پڑھی ، یہ کیا، وہ کیا، نمازوں میں دعائیں کرتے ہو، کس طرح کرتے ہو، رقت طاری ہوتی کہ نہیں، رونا آتا ہے کہ نہیں ، حوالہ دیا کہ جس کو رونا نہیں آیا اس کا دل سخت ہو گیا تو یہ چیزیں پوچھتے ہیں۔پہلے گرید گرید کر جو بالکل غلط چیز ہے۔یہ بندے اور خدا کا معاملہ ہے، انفرادی طور پر کسی سے پوچھنے کا حق نہیں ہے۔عموماً ایک نصیحت کی جاتی ہے جلسوں میں ، خطبوں میں، کہ اس طرح نماز پڑھنی چاہئے۔اس طرح نماز ادا کرنی چاہئے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا چاہئے۔تو ہر شخص کا کام نہیں ہے کہ گرید گرید کر پوچھے اور پھر جب اس کی حالت کا پتہ کر لے تو یہ کہے کہ تم اتنے دن سے نماز میں روئے نہیں تمہیں رقت طاری نہیں ہوئی تم نے اپنے آپ کو ہلاک کرلیا، یا ہلاکت میں ڈال لیا تو ایسے لوگوں کو حضرت مسیح موعود کی یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ خدا کے اختیار ان کو نہیں ہیں۔ہو سکتا ہے کہ تمہارے رونے کو خدا تعالیٰ رڈ کر دے اور اس کے نہ رونے کو قبول کرلے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان نصائح پر عمل کرنے کی توفیق دے اور غیبت جو ایسی بیماری